• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(اکیاون ویں قسط )۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(اکیاون ویں قسط )۔۔گوتم حیات

SHOPPING

آج عید کا دن ہے، بہت سے لوگ ان المناک لمحات میں بھی عید منانے کے لیے بےچین ہیں۔ یہ بات تو اب سب ہی کے علم میں ہے کہ کرونا کی وبا نے دنیا بھر میں معمولاتِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے وبا سے بچنے کے لیے زندگی گزارنے کے روزمرہ کے نئے اصول بھی متعارف کروائے گئے ہیں جنہیں بروئے کار لا کر لوگ اپنی زندگیوں کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں پچھلے دنوں جب نرمی کی گئی تو لوگوں کا ایک جم غفیر خریداری کے لیے بازاروں پر ٹوٹ پڑا، شہریوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کر دیا گیا تھا، صحت کے ماہرین کے مطابق بازاروں میں احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر روزبروز بڑھتا ہوا یہ رش لوگوں کی اپنی زندگیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ صحت کے ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال کو سختی کے ساتھ کنٹرول نہیں کیا گیا تو اگلے ماہ کرونا کے کیسز میں حیران کن اضافہ دیکھنے کو ملے گا اور اموات کی شرح بھی بڑھ جائے گی۔ ماہرین کے ان ہوشربا انکشافات کے باوجود لوگوں نے اپنے معمولاتِ زندگی میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی، آسان لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لوگ ابھی بھی کرونا سے خوفزدہ نہیں ہیں، ان کے نزدیک یہ بیماری ان کو نہیں لگ سکتی۔
سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر بنائے جانے والے ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، مصیبت کی ان گھڑیوں میں غریب عوام کو ریلیف پہنچانے کے بجائے یہ حکومتی نمائندے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر الزامات کی برسات کر رہے ہیں اور پھر رہی سہی کسر عدالتِ عالیہ نے پوری کر دی ہے۔ اشرافیہ اور اداروں کی طرف سے اس طرح کے رویوں کو پروان چڑھا کر ملک بھر کے عام آدمیوں کی زندگیوں میں امیدوں کے جلتے ہوئے دیے بجھائے جا رہے ہیں۔ ان خراب حالات میں ہم جیسے انسان بس افسوس ہی کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ دکھائی ہی نہیں دے رہا۔

گزشتہ جمعہ کے روز کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں ہونے والا جہاز کا حادثہ بہت سے خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے سوگوار کر گیا۔ پاکستان میں یہ پہلا حادثہ نہیں تھا، اس سے پہلے بھی جہاز کے کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں، لیکن ابھی تک کسی بھی حادثے کی کوئی شفاف انکوائری نہیں ہوئی۔۔۔ ہر بار ہونے والے حادثے پر حکومتی نمائندوں کی طرف سے بیانات جاری کر دیے گئے، تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور بس پھر یہ معاملہ ختم۔۔۔

گزشتہ جمعہ کو ہونے والا حادثہ بھی ان حکومتی نمائندوں اور اداروں کے لیے محض ایک حادثہ ہے، کچھ دن بعد اس حادثے کی فائل بھی پچھلی فائلوں کی طرح کہیں دبا دی جائے گی اور عام لوگوں کو ایک نئے حادثے میں جھونک دیا جائے گا۔
عید سے دو دن پہلے ہونے والا یہ حادثہ اپنے ساتھ عید کی خوشیوں کو بھی راکھ کا ڈھیر بنا گیا ہے۔ اس بدقسمت جہاز میں بیشتر مسافر اس لیے سوار ہوئے تھے کہ وہ عید کو کراچی میں اپنے عزیز واقارب کے ساتھ منا سکیں، کچھ مسافر اس لیے بھی خوش تھے کہ وہ دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد واپس اپنے شہر کراچی آرہے تھے۔ ایسے میں ان کی خوشیوں کو راکھ بنا دیا گیا، منزل پر پہنچ کر بھی وہ منزل سے دور کر دیے گئے۔

اس حادثے پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، زندگی ہر ایک کو پیاری ہے۔ کیا ہم تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو اُس جہاز کے اُن بدنصیب مسافروں کی “نشستوں” پر بٹھا سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟
ذرا ہمت کر کے ایک لمحے کے لیے خود کو اس جہاز میں سوار کریں اور ان اذیت ناک گھڑیوں کو محسوس کریں جو ان بدنصیب مسافروں نے آخری لمحات میں محسوس کی ہوں گی۔۔۔ وہ لمحات، وہ قیامت خیز گھڑیاں جب انجن کو آگ نے پکڑا ہو گا۔۔۔ کیا بہت سے کمزور دل کے مسافروں کی شریانوں میں دوڑتا ہوا خون ان لمحات میں ہمیشہ کے لیے جم نہیں گیا ہو گا۔۔۔ وہ تو جہاز کی نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی موت کی وادی میں اُتر چکے ہوں گے، ان کے وہم وگمان میں بھی یہ نہیں ہو گا کہ کچھ لمحوں بعد یہ جہاز گھروں سے ٹکرا کر راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔۔۔؟؟؟

کچھ لوگوں نے قرآن کی آیتوں کا ورد شروع کیا ہو گا اس امید میں کہ بس ایک وہی بچانے والی ذات ہے۔۔۔ لیکن افسوس کہ وہ ذات بھی جہاز کو راکھ کا ڈھیر بننے سے نہ روک سکی۔۔۔ وہ بدنصیب مسافر جو آخری لمحات تک اپنے اعصاب کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں گے لیکن جیسے ہی جہاز گھروں سے ٹکرا کر زمین بوس ہوا ہو گا تو انہوں نے چارسو پھیلتی ہوئی آگ کو اپنے جسموں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر پناہ کی تلاش میں کس کس کو پکارا ہو گا۔۔۔ ان کی چیخوں کی آوازیں چند لمحوں بعد ہی راکھ کے اندر دم توڑ چکی ہوں گی۔۔۔
حیران کن طور پر دو مسافر جلتے ہوئے جہاز کے ملبے تلے دب کر بھی اپنی زندگی کی سانسوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے، اس وقت وہ ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں، کاش کہ وہ جلد از جلد صحتیاب ہو کر اس صدمے سے مکمل طور پر نکل سکیں۔

نہایت ہی افسوس کے ساتھ مجھے یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ملک کے ایک جانے مانے پروفیسر اور انسانی حقوق کی آواز “جناب سلمان حیدر” نے اس سانحے کے اندر بھی امیری اور غریبی کا فرق قائم کر کے ڈھٹائی کے ساتھ یہ بیان جاری کر دیا ہے کہ انہیں اس حادثے میں مرنے والوں سے کسی بھی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں ہے۔۔۔

ذرا سوچیے کہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار اور روشن خیالی کا دیوتا کہنے والے کو اس طرح کے نازیبا بیانات دینے چاہئیں۔؟ ان نام نہاد روشن خیالوں کے دلوں میں رتّی برابر بھی انسانیت کا درد ہوتا تو کبھی بھی یہ اس طرح کے بیانات نہ دیتے۔۔۔ چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ آپ کو اس حادثے سے کوئی دکھ نہیں پہنچا تو آپ اس بات کا اعلان کر کے آخر کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
اس وقت صبح کے نو بج رہے ہیں۔ میں پچھلے تین گھنٹوں سے یہ قسط مکمل کرنے کی کوشش میں ہوں، اس دوران صائمہ نے اپنے نئے لکھے ہوئے کالم کا ڈرافٹ مجھے سینڈ کیا، اس کا کالم پڑھ کر میں بےحد دکھی ہو گیا، میں نے اس کو کہا کہ تم اپنے کالم کو مزید بڑھاؤ، بہت اچھا لکھا ہے، لیکن صائمہ کا کہنا تھا کہ بہت بے چینی میں ہوں، مزید نہیں لکھا جا رہا۔ اس کا جواب سن کر میں خاموش ہو گیا، واقعی میں انسانی جسموں کو راکھ میں بدلتا ہوا دیکھ کر آخر کوئی کیسے لکھ سکتا ہے۔۔۔ صائمہ جیسی حساس شخصیت کے لیے یہ ناممکن سی بات ہے۔ اس کے ڈرافٹ میں کچھ معمولی سی پروف کی غلطیاں تھیں، میں نے اس کو کہا کہ تم کوشش کر کے لکھو، باقی جو پروف کی غلطیاں ہیں وہ میں ٹھیک کر دوں گا، بس ہمت سے کام لو۔

قصہ مختصر، صائمہ نے اپنا کالم مکمل کر کے مجھے پروف ریڈنگ کے لیے بھیج دیا، پروف ریڈنگ کے بعد میں فارغ ہوا اور صائمہ کو خدا حافظ کا میسج کر کے اب میں اپنی ادھوری قسط کی اختتامی سطریں لکھ رہا ہوں۔

رات بھر مجھے چاند رات کی مبارکبادوں کے بےمعنی میسجز موصول ہوتے رہے، صبح فجر کے وقت سے چاند رات کے میسجز عید کے میسیجز میں بدل چکے ہیں۔ میں نے ابھی تک کسی کو بھی چاند رات اور عید مبارک کے جوابی میسیجز نہیں بھیجے۔۔۔ ہاں کچھ بہت ہی قریبی دوستوں کو عید مبارک لکھ دیا ہے، کیونکہ وہ ہمارے ملک کے باشندے نہیں ہیں، اس لیے ان سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ جہاز کے حادثے کو اس طور محسوس کریں گے جس طور میں محسوس کر رہا ہوں۔ میرے اندر حوصلہ نہیں کہ میں یہ اہتمام کر کے اپنے پاکستانی شہریوں کو عید کے جوابی میسجز بھیجوں۔
اس لیے میں اپنے تمام پڑھنے والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ برائے مہربانی یہ عید کی خوشیوں کے بے معنی پیغامات مجھے بھیجنے سے اجتناب برتیں۔ ان کٹھن لمحات میں کوئی بےحس اور خودغرض انسان ہی عید منا سکتا ہے۔

کم سے کم میں یہ فریضہ سرانجام دینے سے قاصر ہوں۔ مجھ جیسے لوگوں کی عید تو اُن مسافروں کے ساتھ جل کر راکھ ہوئی، جو اُس طیارے میں لاہور سے سوار ہو کر کراچی عید منانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔۔۔ کیا کوئی راکھ کے ڈھیر کو بھی عید مبارک کہتا ہے۔؟

گزشتہ رات میڈم زاہدہ حنا کا مجھے فون آیا، وہ بےحد اداس تھیں جہاز کے حادثے پر۔۔۔ اُن بدنصیب مسافروں کے لیے جو عید منانے کراچی آرہے تھے، بلکہ وہ تو کراچی کی حدود میں داخل ہو چکے تھے، ایئرپورٹ کے قریب، رن وے کو چھو کر بھی وہ دوبارہ اُن عزیزوں سے نہیں مل سکے جن کے لیے ان سب نے لاہور سے کراچی تک کا مختصر سا سفر کیا تھا۔ کیا زندگی بس اتنی سی ہے۔۔۔؟
کسی فنّی خرابی کی وجہ سے جہاز کے ٹائر نہیں کُھلے، انجن میں چنگاری بھڑکی اور کچھ ہی لمحوں میں ہنستے بستے ہوئے مسافر جل کر راکھ ہوئے۔۔۔

کیا آپ عید منا رہے ہیں۔؟ چاند رات بھی آپ سب نے بھرپور طریقے سے منائی۔۔۔۔؟ ان وبا کے دنوں میں۔۔۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزگار ختم ہو جانے والے اس شہر کے ہزاروں، لاکھوں خاندانوں کے سُونے آنگنوں اور راکھ ہو جانے والے مسافروں کے لیے بھی آپ کے دلوں میں درد کی شمعیں روشن نہ ہو سکیں۔۔؟ کہاں گیا وہ فلسفہ جس میں بتایا گیا تھا کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے کسی بھی ایک حصے میں درد ہو تو۔؟
کیا یہ فلسفہ بھی خودغرضیوں کی آگ میں ہمیشہ کے لیے جلا دیا گیا ہے۔؟
اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہیے،
پھر اس کی راکھ کو بھی اُڑا دینا چاہیے!

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *