پی کے تراسی سو تین۔۔صائمہ نسیم بانو

مئی 22، 2020، پی کے 8303 کی تباہ کاری کے نتیجے میں متاثرہ افراد اور اہلِ علاقہ کی مدد کے لئے اخلاص اور جانفشانی سے کام کرتے ہوئے یہ خاکی فرشتے، ہو سکے تو ان خاکی وردی والوں کے لئے دعا کر دیجیے گا کہ ان کی ماؤں نے بھی ہماری ہی طرح انہیں بہت چاہ سے جنم دیا اور سینچا ہے، ان تصاویر کو دیکھ کر میرے بارہ سال کے بیٹے نے ایکبار پھر اپنا پسندیدہ جملہ دہرایا کہ “ممیا مجھے فوجی بننا ہے۔”

میں نے اسے شانوں سے تھام کر کہا سنو نین آپ آرٹ پڑھیں گے اور یہ بات ہم طے کر چکے ہیں کہ نہ آپ اپنے بابا جان کی خواہش پر حافظ قرآن بنیں گے اور نہ ہی آپ اپنے ذاتی شوق کی تسکین کے لئے فوج یا پولیس میں جانے پر کوئی خواب دیکھیں گے یا کوئی خیال سوچیں گے۔ نین، آرٹ صرف آرٹ!

ہم مائیں بہت محنت سے یہ بچے اپنی وومب میں سینچتی ہیں پھر ان کا جنم ہوتا ہے جو ہمیں نچوڑ کر رکھ دیتا ہے، لیکن ہم تھکتی نہیں، پھر اپنی ممتا کی لازوال و بے مثال طاقت سے ہم انہیں پروان چڑھاتی ہیں۔ اپنی جسمانی اور روحانی تمام تر قوتیں ان پر وار دیتی ہیں ، اور ہم میں کئی ایسی بہادر اور نڈر ہوتی ہیں کہ اپنی برسوں کی محنت کا ثمر اپنی دھرتی ماں اس مادرِ وطن کی خدمت و حفاظت کے لئے دان کر دیتی ہیں،لیکن میں ایسی بہادر نہیں ہوں۔

میرے بچے نین! میں نے تو ان بارہ سالوں میں تمہیں ایک نقلی کھلونے والی گن بھی نہ خرید کر دی، میرے چاند جب تم کھلونوں کی دکان پر حسرت سے گنز کی جانب دیکھتے تھے تو میرا دل کٹ کے رہ جاتا تھا لیکن میں اپنے نظریات کے ہاتھوں بہت مجبور تھی۔ میں تم لوگوں کے لئے ٹوکری بھر بھر کر رنگ برنگی پنسلیں اور آرٹ کاپیز لاتی رہی ہوں۔ میں نے تم سے کہا کہ اپنے تخیل کے رنگ ان آرٹ پیڈز پر بھر دو اور میرے نینا! پتا ہے تم نے کیا کیا؟ تم ان آرٹ پیڈز پر ٹینکس، فائیٹر طیارے، جاپانی سیمورائیز (جنگجو) بنانے لگے میں نے تو وہ آرٹ پیڈز ہی چولہے میں جھونک دیے، پھر نہ جانے کیسے تمہارے دوست باصل نے تمہیں ارطغرل، ٹیم ون جیسے ڈراموں کا بتایا اور تم نے انہیں دیکھنا شروع کر دیا۔

اب تم مجھ سے کبھی ٹیپو سلطان کا پوچھتے ہو تو، کبھی جبرالٹر کی کرید کرتے ہو، دیکھو! میرے چاند، میرے بچے، میں تمہاری باصل سے دوستی ختم کروا دوں گی، بھلا بارہ سال کے بچے بھی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اور الٹا تم مجھے یہ سمجھا رہے ہو کہ ممیا نانو کہتی ہیں کہ موت اپنے وقت پر ہی آتی ہے (تیری ماں تو پاگل ہے، یقیناً وہ یہ بھی ضرور کہتی ہوں گی، یہ ان کا فیورٹ جملہ ہے) پھر تم مجھے کہتے ہو کہ ممیا! اگر مجھے مرنا ہی ہوتا تو میں برین سرجری کے وقت مر جاتا۔ ہائے نینا! تم کیسے میرے سامنے ایسی باتیں کہہ لیتے ہو میرے چاند، میرے جگر کے ٹکڑے خدارا ایسے ظالم جملے اپنی ڈرپوک ماں کے دردمند دل پر نہ آزمایا کرو۔ نین! میرے بٹو، تمہارے سرجن برگیڈئیر اشفاق، وہ بھی تو ایک فوجی ہی تھے نا، جب اس شہر کے ہر سرجن نے تمہاری سرجری سے انکار کر دیا تھا تو انہوں نے ہی یہ رسک لیا اور اللہ پاک نے تمہیں صحت سے بھر پور زندگی عطا فرمائی۔ آئی۔ سی۔ یو میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امان ساری رات خود تمہارے سرہانے کھڑے رہے تھے، تمہارے بابا اس وقت جہاز میں تھے اور یہ غریب ماں تو آپریشن تھیٹر کے فرش پر ہی گر کر نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو چکی تھی، ان درد  بھرے لمحوں میں انہی فوجی ڈاکٹروں نے ہی تو ہمیں سنبھالا تھا۔

سنو نین! میرے چاند، میرے بچے، میری جان، خبردار جو تم نے فوجی بننے کا سوچا بھی، میں نہیں چاہتی کہ تمہیں اپنے ہاتھ سے موت کے سپرد کر دوں اور اس کے بدلے میں یہ پورا سماج تمہاری وردی پر کیچڑ اچھالتا رہے۔ نینا! چندا! دلارے، یہ لو، تخیل کے رنگ اور ہاں یہ پوری کی پوری کائنات تمہارا کینوس ہے، فطرت وہ دیوی ہے جو ایک حسین دوشیزہ کی طرح تمہارے سامنے اپنے جوبن کے رنگ اوڑھے اس لمحے کی منتظر ہے کہ کب تم آؤاور اس کے وجود کو اپنے کینوس پر اتار لو۔

میرے نینا! میرے چاند! میری جان! میرے بچے! جاؤ کائنات میں اپنی مرضی کے رنگ بھرو اور اس محبت کے ستار پر امن کے سُر چھیڑو، شانتی کے گیت گاؤ۔ ہاں یہ بات ضرور یاد رکھو کہ نہ تو تمہاری ماں آبادی بانو بیگم کی طرح کوئی جی دار خاتون ہیں نہ ہی تم دونوں بھائی محمد شوکت علی اور محمد علی جوہر ہو۔ یہ تمہاری ماں، صائمہ بانو بخاری، بے پناہ و بے حساب سہمی ہوئی انتہائی خوفزدہ عورت ہے۔ میرے نین، میرے چاند، میری روشنی، میرے بچے، میں اپنے خوف کی سیاہی سے تمہارے عزم کی روشن کرنیں مٹا دینے پر مجبور ہوں، میرے نینا! مجھے معاف کر دینا۔

صائمہ بخاری بانو
صائمہ بخاری بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *