مسئلہ کرنل کی بیوی کا نہیں۔۔         ابرارخٹک

مسئلہ کرنل کی بیوی کا نہیں،بلکہ یہاں کی اکثریت اپنی بنیادو ں  سے سِرک گئی ہے۔یہ ایک نفسیاتی مسٔلہ ہے،جس میں ہم  پاکستانی،قبل از آزادی ,  نوآ  بادیاتی دور سے بھی پہلے کے  گرفتار  چلے آرہے ہیں۔کسی بھی محکمے ، شعبہ ٔ زندگی،یہاں تک کہ عوام  کے مختلف طبقات  کا مطالعہ بتاتا ہے   کہ ایک بڑی  اکثریت اس  نفسیاتی بیماری کی  شکار ہے۔جہاں  اکثریت کی سوچ یہ ہو کہ آئین  و قانون  کاغذ کے چند ٹکڑوں کا نام ہے،  بنیادی حق کا نعرہ ہر کسی  کی زبان پر ہواور فرض کی توقع دوسروں  سے کی جاتی ہو ؛ وہاں    ایسے واقعا ت تسلسل سے رونما ہوتے ہیں۔یہاں قاعدے قانون نہیں بلکہ برادری ازم،محکمہ ازم ،فرقہ ازم،مسلک ازم،پیٹی بندی ،اقربہ پروری اور نہ جانے اور کتنے  رشتوں کی بنیا دپر ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور بچانے کی کوشش کی جاتی ہے،یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں ہمیشہ اصول پسند،   شریف اور سفید پوش      ہی نشانہ بنتے   ہیں۔

بحیثیت ذمہ دار، منظم اوربااصول  ادارے کے، فوج اس قسم کے قانون شکن، افسوس ناک و ہتک آمیز حرکت کی ہرگز حمایت   نہیں کرسکتی،تاہم     ملک و قوم کو  رسوا کرنے کے لیے یہ واقعہ انتہائی شرم ناک ہے اورجس قسم کی نفسیات کی غمازی کررہاہے وہ انتہائی خطر ناک  اور  بے شمار سوالات اٹھارہاہے۔بلاشبہ  یہ ایک انفرادی معاملہ ہے تاہم ہمارا سارا  معاشرہ  اس قسم کے  نفسیاتی عوارض کا شکار ہے،بدقسمتی سے ادارے عوام دوست نہ بن سکے اورعوام کے ذہن وفکر میں ڈر ،خوف اور فاصلوں کے سائے ہیں اور یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ملک و بیرون ملک کے طاقتور، کرپٹ، ظالم،  قاتل،غنڈے یہاں قتل و غارت اور دیگرسنگین جرائم کا ارتکاب کرکے عدالتوں سے ضمانت اور برآت  لے کر مکرم  ٹھہرتے ہیں یا عزت و احترام سے رخصت کیے جاتے  ہیں۔ طاقتور، بااثر (افسر،قانون ساز،قانون دان،ملازم،ماتحت) ظلم کرتا ہے،  مظلوم سہتا ہے ، ریاست  اندر ہی اندر کمزور ہونے کی صورت میں اس کی قیمت ادا کررہی ہوتی  ہے۔ یہ مسٔلہ   بھی   اسی طریقے سے دب جائے گا،جس طرح اور مسائل  ہوتے ہیں،چند دن  سوشل ،الیکڑانک و پرنٹ میڈیا کی زینت بنے گا اور پھر اپنی موت آپ مرجائے   گا اوراس کی جگہ نئی  خبروں کو مل جائے گی۔

حب الوطنی ،فرض شناسی ،ایمانداری،دیانت داری اور اس قبیل کی جتنی بھی صفات،تراکیب و مرکبات ہیں وہ آپ کو تقریروں، تحریروں اور مشاعروں میں نظر آئیں  گی،عمل کی دنیا  عموماً ان الفاظ کے معانی  کے لیے ترستی رہی ہے۔یہاں  طاقت ور کی  چلتی ہے،گینگز ہیں، بزنس ٹائی کونز ہیں،ڈاکو،لٹیرے اور مافیاز ہیں جن کے اپنے اپنے کام اور طریقہ ہائے کار ہیں،ایسے میں ایک انفرادی عمل، ادارے کو نشانہ بنانا درست نہیں۔وہ وکیل کی بیوی ہو یا کرنل کی،پولیس کی ہو ،   پریس والوں کی یا کسی اور بااثر ادارے  کے نوکر کی یا وہ صاحب خود ہی کیوں نہ ہوں ،ہر مقتدر ادارے کی اکثریت اپنے محکمے کو کیش کرتی رہتی  ہے۔شریف اور کمزور محکمے،ملاز م اور عوام ہمیشہ پستے رہے ہیں اور یہ  سلسلہ اسی طرح  جاری  و ساری ہے۔’’سول سرونٹ عوام کا نوکر ہوتاہے ‘‘ موجودہ نظام میں یہ  ایک جذباتی نعرہ ہے حقیقت نہیں ،’’عوام ،سول سرونٹ کے نوکر ہوتے ہیں‘‘،یہ نعرہ  یہاں زیادہ درست نظر آتاہے۔یہاں  لوگ اپنا تعارف  انداز،اخلاق و کردار سے نہیں بلکہ  پوزیشن،عہدے،محکموں کے نام  سے کراتے ہیں،کہ یہی معیارٹھہرے ہیں،وہ خود محکموں کی پہچان نہیں بنتے،بلکہ  ہمیشہ اپنے محکموں کو ذاتی شہرت،سٹیٹس، مفادات کے حصول، دوسروں کو مرعوب، زیر کرنے اور ریاستی وسائل کے جائز و ناجائز استعمال کے لیے  کیش کیا جاتا ہے۔

یہاں آئین و قانون اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب اوپر سے اشارہ ہو،نظریہ ٔ ضرورت کا مسٔلہ در پیش ہو، یا غریب اور لاچار کو پکڑ کر قانون کی بالادستی کا بظاہر  عَلم بلند کرنا ہو۔صدر،وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ،وزراء،ممبران،آفیسرز،حاکم ،جج،غرض ہر صاحب حیثیت  کے لیے معیارات الگ ہیں،ماتحت ،غریب  اور عوام کو عملاً دوسرے درجے کی حیثیت حاصل ہے،ایسے میں اس واقعے  کو اجتماعی نظام پر محمول کرنا تو درست ہوسکتا ہے  تاہم کسی  ایک  ادارے تک محدود کرنا درست نہیں ۔اس ملک کے عوام کو روٹی،گھر،صحت،تعلیم ،روزگار اور اس طرح بے شمار مسائل کے حل سے کہیں زیادہ ضرورت ’’عوام دوست نظام‘‘  کی تھی جو بدقسمتی سے کوئی نہ دے سکا۔ کوئی ہے جو عوام دوست نظام  دے  سکے ؟  یقین کیجیے درج بالا مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔

ابرار خٹک
ابرار خٹک
میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ۔ مری تمام سرگزشت کھوۓہوٶں کی جستجو۔۔۔(اقبال)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *