• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نوجوانوں سے اپیل (2)۔۔مصنف: پیٹر کروپوٹکن/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

نوجوانوں سے اپیل (2)۔۔مصنف: پیٹر کروپوٹکن/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

آپ شاید کہیں فقط عملی کاروبار شیطانی اور استحصالی عمل ہوتا ہے، میں تو صرف سائنس کی طرف جاؤں گا۔ میں ایک خلاباز، فزیالوجسٹ یا کیمیادان بنوں گا جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ سود مند ثابت ہوتے ہیں۔

چلیں پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ خود کو سائنس کےلیے کیوں وقف کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ صرف مسرت کےلیے ہے؟ ہاں۔۔۔ بلاشبہ بے تحاشا مسرت جو ہمیں فطرت کے مطالعے اور اپنی دانشورانہ صلاحیت کو استعمال کرنے سے ملتا ہے؟ اگر معاملہ یہی ہے تو میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ ایک فلاسفر جو سائنس کی ترغیب صرف اس لیے دیتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو مسرت کے ساتھ گزار سکے، آپ ایسے فلاسفر کو ایک شرابی سے کس طرح ممتاز اور متفرق کر پائیں گے جو فقط اپنی راحت و سرور کے لیے شراب پی رہا ہوتا ہے؟ فلاسفر نے تمام تر امتحانات پاس کر کے عقل مندی کے ساتھ اپنے لیے لطف اندوزی اور سرور کو چنا ہے، جب کہ یہ عمل اسے شرابی کے مقابلے میں زیادہ راحت بخشتا ہے۔ مگر دونوں کو فقط ذاتی مسرت و راحت مل رہی ہے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔

مگر نہیں، آپ تو ایسی خودغرضی پر مبنی زندگی گزارنا نہیں چاہتے۔ سائنس کے ساتھ جڑ کر آپ انسانیت کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور یہی نقطہ نظر آپ کی تحقیق میں آپ کی رہنمائی کرے گا۔

کتنا پُرکشش فریب ہے یہ تو…! ہم میں سے کون سائنس سے پہلی بار جڑتے وقت اس پُرکشش فریب کا شکار نہیں ہوا؟

اگر آپ حقیقت میں انسانیت کے بارے میں سوچتے ہیں، اگر آپ اپنی تعلیم میں انسانیت کے لیے کچھ اچھا دیکھتے ہیں تو پھر ایک ڈراؤنا سوال ابھر کر آپ کے سامنے آتا ہے۔ تاہم اس کے لیے آپ کو تھوڑا سا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔ آپ نے یہ ضرور ملاحظہ کیا ہوگا کہ آج کے ہمارے معاشرے میں سائنس تو محض چند لوگوں کو آسائش اور عیش و عشرت میسر کر رہی ہے، مگر انسانیت کی اکثریت کے دسترس میں بالکل بھی نہیں۔

سائنس کو اس کائنات سے متعلق اپنا مؤقف رکھے اب ایک صدی کا عرصہ گزر چکا، لیکن اب بھی کتنے ایسے ہیں جو سائنسی تنقیدی روح کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں؟ ایسے لوگ لاکھوں کروڑوں کے بیچ فقط چند ہزار ہیں۔ ان کروڑوں لوگوں کی اکثریت ابھی تک جہالت، توہم پرستی اور ڈر و خوف کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی ہے جو مذہبی دغابازوں کے نرغے میں آ کر ہمیشہ ان کی خدمت کرنے پر راضی ہوتے ہیں۔

یا پھر ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں کہ سائنس نے مادی اور اخلاقی صحت کے لیے کون سی عقلی بنیادیں ڈالی ہیں۔ سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیں اپنی جسمانی صحت بحال اور برقرار رکھنے کے لیے کس طرح زندگی گزارنی چاہیے، اپنی عوامی آبادی کو کس طرح اچھی حالت میں برقرار رکھنا چاہیے۔ کیا یہ بے پایاں کام محض کتابوں میں دفن نہیں؟ یقیناً یہ فقط کتابوں میں مدفن ہے، تو کیوں؟ کیوں کہ آج سائنس صرف کچھ مراعات یافتہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، سماجی نابرابری جو کہ معاشرے کو دو طبقات میں تقسیم کرتی ہے، ایک طرف اجرتی غلام تو دوسری طرف سرمایہ کو لوٹنے والے۔ سائنس کی تمام تر تعلیمات عقلی وجودیت کی شرائط پر مبنی ہیں جو کہ انسانیت کی اکثریت کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک محال ہے۔

میں مزید بہت ساری مثال دے سکتا ہوں، مگر میں رک جاتا ہوں۔ آپ فقط “فاؤسٹ” کے قریب جائیں، جس کی کھڑکیاں گردوغبار کے سبب تاریک ہو چکی ہیں، بہشت کی روشنی کو کتابوں سے بھرے ان خانوں پر پڑنے دیں۔ اردگرد نظر ڈالیں اور ہر قدم پر آپ ایک نیا ثبوت اس منظر کی حمایت میں پائیں گے۔

اب سائنسی سچائی اور دریافتوں کو مزید جمع کیے رکھنا بے معنی ہے۔ اب ہمیں سب سے پہلے ان سائنسی سچائیوں کو پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انھیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ اور عمومی ملکیت بنا سکیں۔ ہمیں چیزوں کو اس ترتیب سے رکھنا چاہیے کہ پوری انسانیت انھیں سمجھنے اور اپنانے کے قابل ہو سکے۔ ہمیں سائنس کو عیاشی کی بجائے عام آدمی کی زندگی کی بنیاد بنانا چاہیے، انصاف کا تقاضا تو یہی ہے۔

میں مزید آگے بڑھتا ہوں۔ میں کہتا ہوں ایسا ہونا ازخود سائنس کے اپنے مفاد میں ہے۔ سائنس اس وقت ترقی کرتی اور آگے بڑھتی ہے جب پہلے سے ہی اسے قبول کرنے کے لیے میدان تیار اور زرخیز ہو۔ میکینیکل حرارتی بنیاد کا نظریہ پچھلی صدی میں انھی اصطلاحات کے ساتھ پیش کیا گیا جس طرح آج ہائرن اور کلاسیئس اسے بیان کرتے ہیں۔ مگر وہ بھی 80 سال تک علمی اصولوں کے ریکارڈ میں دبا رہا، جب تک فزکس کا علم عام لوگوں تک نہیں پہنچا اور اسے قبول کرنے کےلیے عام لوگوں کو تیار نہیں کر سکا۔ اس سے قبل تین نسلیں گزر گئیں جب ڈارون کا نظریہ ارتقا اس کے نواسے سے وصول کر کے علمی فلاسفروں کی جانب سے اپنایا گیا۔ لیکن تب بھی عوامی اظہار اور دباؤ کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ فلاسفر، شاعر یا پھر فنکار و ادیب ہمیشہ سے معاشرے کی ہی پیداوار ہوتے ہیں اور اسی میں رہ کر آگے بڑھتے اور تعلیم دیتے ہیں۔

اگر آپ اس علم سے فیض یاب ہیں تو پھر آپ سمجھ جائیں گے کہ سب سے اہم، معاملات و حالات میں بنیادی تبدیلی لانا اور ان فلاسفرز کو ملامت کرنا ہے جو فقط سائنسی سچائی کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں۔ اور تقریباً باقی پوری کی پوری انسانیت وہیں پر ہے جہاں وہ آج سے پانچ سے دس صدیاں قبل تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی سچائی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے اور اس میں ماہر ہونے کی بجائے آج بھی وہ مشین اور غلامی کی حالت میں ہیں۔ اور جس دن آپ سائنسی سچائی کو وسعت، گہرائی اور انسانی صفات کے ساتھ سمجھنے میں کامیاب ہو گئے تو اس دن آپ شفاف سائنس کے لیے اپنایا گیا اپنا جنون کھو دیں گے۔ اس دن سے آپ سائنس کو عوامی بنانے کی راہیں کھوجنا شروع کر دیں گے۔ اور اگر آپ اپنی سائنسی تحقیق میں رہنمائی کرنے والی تحقیقات کو منصفانہ کریں گے تو پھر آپ ضروری طور پر سوشلزم کے مقصد کو اپنائیں گے۔ آپ صوفیانہ خیالات کو ترک کر کے ہمارے ساتھ جُڑ جائیں گے۔ آپ اس چھوٹے سے گروہ کو مزید آسائشیں فراہم کرنے کے کام سے اکتا جائیں گے جنھیں پہلے سے ہی کسی حد تک یہ عیاشیاں اور آسائشیں حاصل ہیں۔ آپ اپنی معلومات اور خلوص کو محکوم کی خدمت کےلیے وقف کر دیں گے۔ اور پُراعتماد رہیں گے کہ فرض کی ادائیگی اور حقیقی مطابقت آپ کے عمل اور جذبات کے ساتھ جڑنے کا احساس آپ میں ایسی قوت پیدا کرے گا جس کا آپ نے کبھی خواب تک نہیں دیکھا ہوگا۔ اور میں کہتا ہوں جب ایک دن، جو زیادہ دور نہیں، جس کے لیے آپ محنت سے کام کر رہے ہیں وہ لایا جاچکا ہو، تب سائنسی کام سے حاصل کردہ نئی توانائی اور مزدوروں کی طاقتور فوج کی مدد سے جو اپنی تمام تر توانائی اس کی خدمت پر معمور کر دیں گے، سائنس اپنی موجودہ سست رفتاری کی بہ نسبت ایک نئی جست کے ساتھ زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گی اور ترقی کرے گی۔

تب آپ سائنس سے لطف اندوز ہوں گے، تب خوشی و مسرت سب کے لیے ہوں گے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *