الوداع ماہ رمضان ۔۔ قُرسم فاطمہ

سلام ہے اُس عظیم اور بزرگ و برتر ذات پر جس کے فضل اور احسان نے ہم کو ڈھانپ رکھا ہے۔ سلام ہے اُس واحد  لاشریک ذات پر جس کی نعمت و رحمت کی فراوانی نے ہم پر سایہ کر رکھا ہے۔ سلام ہے اُس خالقِ حق کی بارگاہ میں جس کے ہم پر انعام و اکرام کی حد تو یہ ہے کہ ہمیں وہ دین عطا کیا جو منتخب کیا جاچکا ہے اور وہ راستہ دکھایا جو مستقیم ٹھہرایا جاچکا ہے۔ سلام ہے اُس پاک پروردگار و ربِ ذوالجلال پر جس نے ایمان کو اسلام عطا کیا۔ اسلام کو محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ ﷺ عطا کیے۔ احمدِ مجتبیٰ کو (پہلی امتوں کی طرح) رمضان عطا کیا پھر رمضان کو قرآن عطا کیا۔ سلام ہے اُس بارِ الہی کے حکمِ کُن پر جس نے ہمیں اہلِ اسلام و اہلِ ایمان میں شامل کرکے محمد ﷺ کا امتی بنا کر نہ صرف نماز کا بلکہ رمضان کا تحفہ بھی دے دیا۔ پھر رمضان کی منتخب ساعتوں میں قرآن دے کر ہمیں تمام نبیوں کی تمام امتوں میں مشرف بھی ٹھہرادیا۔ سلام ہے اُس عفو و درگزر رحمان پر جس نے رمضان المبارک میں قرآن و نور کو نازل فرما کر شبِ قدر کی وہ روحانی ساعتیں عطا کیں جو ہزار سالوں کی ہزار ہا عبادتوں سے اعلیٰ و ارفع ہیں۔ سلام ہے اُس رحیم و کریم ذات پر جو ہم گنہگاروں اور سیاہ کاروں کے گناہوں اور لغزشوں کو مٹانے کے لیے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کو ایسا مہمان بنا کر بھیجتا ہے جو ابرِ رحمت بن کر ہمیں اپنی رحمت کی گھنی چھاؤں میں کچھ اس طرح چھپا لیتا ہے کہ ہم گناہوں اور بد اعمالیوں کی تند و تیز دھوپ سے خود کو محفوظ کرکے مغفرت و نجات کے سائے میں پناہ گزین ہوجاتے ہیں۔

مگر اب۔۔۔وقتِ رخصت آ ن پہنچا ہے۔ الوداع ماہِ رمضان کہنے کی دل سوز گھڑیاں دہلیز پر دستک دے رہی ہیں اور ہمارے مضطرب و بے چین دل ہجر و فراق کے غم میں ڈوبے عاشق کی مانند پارہ پارہ ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں:

قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ

الوداع الوداع ماہ رمضان

کلفت ہجر و فرقت نے مارا

الوداع الوداع ماہ رمضان

اے ماہِ صیام! اے ماہِ مہمان! ہم اس سال بھی سرجھکائے تجھے رخصت کرنے کو تیار ہیں۔ وائے ہو ہم پر کہ ہم تیرا حق ادا نہ کرسکے۔ وائے ہو ہم پر کہ ہم احسن طریقے سے تیری مہمان نوازی نہ کرسکے۔ وائے ہو ہم پر کہ ہم نے اپنے نفس کو اپنے قلب پر ظلم کرنے سے روک نہ سکے۔ ہم شرمندہ ہیں اپنے نفس پر جو ہمیں نیکیوں سے روک کر خطاؤں کی طرف بڑھاتا رہا اور ہم بڑھتے رہے۔ ہم اپنے نفس کی ایسی تمام چالاکیوں سے خوفزدہ ہیں جو ہمیں تباہی کے دہانے پر لے جاتی رہیں اور ہم اس کی پیروی کرتے رہے۔ ہم اپنے نفس کی حیوانیت پر غمزدہ ہیں جو عبدیت و بندگی کے راستے میں حائل ہوتا رہا اور ہم اسے مکمل طور پر راستے سے ہٹا نہ سکے۔ ہم اپنے نفس کی سرکشی پر افسرہ ہیں جو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی ہمیں گناہوں کی طرف مائل کرتا رہا اور ہم مائل ہوتے رہے۔ ہم نے خود پر ظلم ڈھایا ہے۔ ہمارے نفس نے ہمیں شرمندہ کیا ہے۔ مگر اب جبکہ وقتِ رخصت آچکا ہے تو ہمارے دل اشکوں کے بوجھ تلے ڈوبتے جارہے ہیں۔

اے ماہِ مغفرت و نجات! ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے رب کی بارگاہ میں جاکر ہمارا پردہ چاک نہ کرنا۔ ہمارے عیبوں اور رسوائیوں کی پردہ پوشی کرنا۔ جس رحمت کا تونے ہم پر سایہ کررکھا تھا، اُس رحمت سے ہمیں محروم نہ کرنا۔ ہم توبہ کرنے میں تاخیر کرتے رہے ہیں مگر تو احسان کرنے میں توقف نہ کرنا۔ ہم پر اپنے فضل کا کچھ حصہ چھوڑے جانا اور ہمیں فتنوں کا ہدف نہ بننے دینا۔ جب ہمارا نفس ہم پر حملہ کرے تو ہمارا مددگار بن جانا۔ اے ماہِ مبارک! جب تو رخصت ہوجائے تو تحفے میں ہم کو اپنی مہکتی بہار کا کچھ حصہ دیتے جانا جو ہمارے شانوں کو معصیت کے بوجھ سے آزاد کرواتی رہے۔ تُو تو ربِ کریم کا تحفہ ہے پس ہمیں اپنی مٹھاس کا کچھ حصہ دیتے جانا۔ اے ماہِ قرآن! ہمیں حشر کے دن بھول نہ جانا اور جو قرآن ہم نے پڑھا اُس کو ہمارے لیے بخشش کا ذریعہ بنانا۔ اے ماہِ ایمان! دورانِ حساب ہمیں مایوس نہ کرنا اور ہمارے لیے باعثِ خیر و عافیت بن جانا۔ اے رحمتوں اور برکتوں والے مہینے! ہمیں نارِ جہنم سے بچالینا اور ہمیں ہمارے رب کے سامنے تنہا نہ چھوڑ دینا۔

اے ماہِ مغفرت و نجات! ہم یہ تو جانتے ہیں کہ تو اگلے سال بھی ضرور آئے گا مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ تیرا استقبال کرنے والے ہم گنہگار زندہ ہوں گے کہ نہیں۔ پس تو ہماری نہایت معمولی سی مہمان نوازی کو قبول کرلینا۔ ہماری غفلتوں اور غلطیوں کو بھلا کر ہم سے راضی ہو کر جانا۔

اے اللہ کے مہمان، ماہِ صیام! ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ سال ہم اپنی اوقات اور بساط سے بڑھ کر تیری خدمت کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے آنے پر اپنے نفس کو لگام ڈال کر بھرپور عبادت کریں گے۔ اے ماہِ غفران! اب ہم تجھے خدا حافظ کہتے ہیں۔ تجھے دینے کو ہمارے پاس سوائے اشکوں کے کوئی اثاثہ نہیں ہے۔ ہم خالی ہاتھ ہیں مگر تو جاتے جاتے ہماری جھولیاں بھر جانا۔ ہمیں یہ نوید سنا جانا کہ تونے ہماری مہمان نوازی کو قبول کرلیا ہے۔ اے ماہِ غفران! ہمیں رحمت و فضل اور مغفرت و نجات کی نوید سنا جانا۔ اے جلد رخصت ہوجانے والے مہماں! الوداع، الوداع!

کچھ نہ حسن عمل کرسکا ہوں

نذر چند اشک میں کررہا ہوں

بس یہی ہے مرا کل اثاثہ

الوداع الوداع ماہ رمضان!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *