راستہ تکتی ہے پھر مسجد اقصیٰ  تیرا۔۔بنت مہر

فوک برناڈاٹ زمانہ طالب علمی میں اسکاؤٹس کاگروپ لیڈر تھا، اپنے شوق اور لگن کے سبب ترقی کرتے کرتے سویڈن میں ”صلیب احمر”(ریڈ کراس) کا سربراہ بن گیا،جنگ عظیم دوم میں اس نے یہودیت کے لیے ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں، جب جرمنی میں یہودیوں پر ہٹلر کاکوڑا برسا تو اس شخص نے عقوبتی کیمپوں سے یہودیوں کو بچا بچا کر نکالنے میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی ،یہودی اس کے احسان مند ہو گئے اور یوں یہ غیر یہودی شخص یہودیوں کے ہاں بہت معتبر بن گیا۔

20 مئی 1997 کو اسے اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل اور عربوں کے درمیان ثالث  بنا کر بھیجا گیا ،یہودیوں نے اس کا پُرجوش خیر مقدم کیا۔برناڈاٹ نے اپنی صلح جُو اور امن پسند طبیعت کے پیش نظر آتے ہی صیہونی جنونیوں اور نہتے فلسطینیوں کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے اپنے پورے اختیارات استعمال کیے اور شر پسندی کو محدود سے محدود تر کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی یہی صلح پسندی اور منصف مزاجی اس کے قتل کا پروانہ ثابت ہوئی ۔

اس نے ایک تجویز پیش کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی فلسطینی مسلمان کسی بھی وقت یہ حق رکھتا ہے کہ یا تو فلسطین میں واقع اپنے گھر میں لوٹ آئے یا اسے کوئی معقول معاوضہ دے دیا جائے۔ اب قطع نظر اس بات سے کہ اس کی تجویز میں مسلمانوں سے زیادتی تھی یا نہیں۔دیکھنے کی بات یہ تھی کہ اس شخص کے ماضی کے ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوچنا بھی احمقانہ بات تھی کہ وہ کوئی یہود مخالف منصوبہ بنا رہا ہے مگریہود کی محسن کشی کی عادت کی پستی دیکھیے کہ وہ شخص جس نے تن تنہا اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر تقریباََ 20 ہزار یہودیوں کو ہٹلر سے نجات دلائی تھی ،ان یہودیوں نے اپنے اس مسیحا کو صلح پسندی کی اس تجویز پیش کرنے کے جرم میں دوسرے دن ہی قتل کر دیااور اس کے قتل کا فیصلہ جاہل یا متشدد یہودیوں نے نہیں بلکہ اعلیٰ یہودی قیادت کی متفقہ رائے سے اور اسحاق شیمر جیسے چوٹی کے رہنما کے حکم پر کیا گیااور یوں انسانیت کی خدمت کی نیت سے پہنچنے والا یہ شخص ان ہی یہودیوں کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھا جن کو وہ مظلوم اور ہمدردی کے قابل سمجھتا تھا۔

تو قارئین یہ ہے کفر کی ذہنیت اور ان کی تاریخ! وہی یہود جومسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور یہودیوں کی اس رائے کو بدلنے کے لیے ہم ان کی نظر میں قابل اعتراض امور سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجودہم ان کو خوش کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ عزت و کامیابی اپنے اصل پر پورے اعتماد سے ڈٹے رہنے میں ہے، ایسے لوگوں کا بظاہر وہ جتنا بھی مذاق اڑائیں لیکن اندر سے وہ ان سے مرعوب بلکہ خائف ہوتے ہیں۔مگر ہم انہیں خوش کرنے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور اس مقصد کے لیے اپنے قبلہ اوّل سے بھی دستبرار ہو چکے ہیں حالانکہ بیت المقدس ہمیں حرمین کی طرح عزیز ہونا چاہیے، جس کی حفاظت ہم لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر کرتے لیکن مسلمانوں کا عظیم و مقدس ترین ورثہ ان کی آنکھوں کے سامنے ضائع ہو رہا ہے ۔

مسلمانوں کی دو نسلیں گزر چکی ہیں جنہوں نے مسجد اقصی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ مسلمان کیااگر کسی فلسطینی مسلمان سے پوچھیں کہ آپ بیت المقدس گئے ہیں یا وہاں کوئی جمعہ ادا کیاتو شایدوہ بھی اثبات میں جواب نہ دے سکے گا،اگر آج خدانخواستہ مسجد اقصیٰ کے انہدام کی کوشش کی گئی تو روئے زمین پر پھیلی مسلمان نسل کو اس کی خبر تک نہ ہو سکے گی کیونکہ ہم القدس سے لاپرواہ اورغافل ہونے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی خوشی کے لیے اس سے لا تعلق ہو چکے ہیں۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر

یہودیوں کا ایک گروہ عرصہء دراز سے مسجد اقصیٰ کے انہدام کی کوشش کر رہا ہے کبھی مسجد کی بنیادوں کے نیچے آثارِ قدیمہ کی تلاش کے بہانے سرنگیں کھودی جاتی ہیں اور کبھی مفسد یہودی اپنے ساتھ ایسا کیمیکل لے جاتے ہیں جو مسجد کی اینٹوں کے درمیان بھرے گئے مصالحے کو ریزہ ریزہ کر دے اور یہود کی مسجد کے انہدام کی مشکل آسان ہو جائے ،یہودیوں کے ان ناپاک منصوبوں پر امت مسلمہ کی مجرمانہ  خاموشی انہیں مزید شہ دے رہی ہے ،عیسائیت، یہودیت یا کسی بھی مذہب کی مقدس عمارت یا عبادت گاہ پہ کسی دوسرے مذہب  کاشخص ناجائز قبضہ کرے تو اس مذہب کے لوگ پوری دنیا میں کہرام مچا دیں، اپنی عبادت گاہ کو منہدم کرنے والے یامشکوک کاروائی کرنے والے شخص کو پھانسی پہ لٹکا کر نشان عبرت بنا دیں، کیونکہ مذہب ہر انسان کا سب سے حساس معاملہ ہوتا ہے، جس پہ وہ کسی قسم کو کوئی سمجھوتا نہیں کرتا ۔

اسی طرح مذہبی عبادت گاہوں پر کسی دوسرے مذہب کے قبضے کو نہ تو دنیا کا کوئی انسان مانتا ہے اور نہ کوئی قانون۔لیکن ہماری بے حسی دیکھیے کہ نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا لیکن ہماری غیرت ایمانی پہ ایک آنچ نہ آئی ۔۔قبلہ اوّل کے لیے ہماری کوششیں صرف ایک روزہ احتجاج پہ مشتمل ہیں اورسال کے اس ایک دن کے علاوہ نہ تو ہمیں اقصیٰ کی مظلومیت رلاتی ہے اور نہ اپنے قبلہ اول کی یاد تڑپاتی ہے آج دنیا بھر کے اسلامی ملکوں میں القدس سے یکجہتی کے لیے جلسے جلوس نکالے جائیں گے القدس کی مظلومیت اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی سپہ سالاری میں حاصل ہونے والی شان و شوکت کا ذکر کیا جائے گا اور عین اس وقت میں اقصیٰ پر صیہونی قبضہ اور فلسطینی لوگوں پر ظلم و ستم جاری ہو گا بحیثیت مجموعی ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ وقت قیام ہم سجدے میں گر جاتے ہیں اسرائیل کے ناجائز وجود کے وقت تو ہم کچھ کر نہ پائے اس لیے اب یوم یروشلم کے جواب میں یوم القدس منا کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ قبلہ اول کا حق ادا ہو گیا حالانکہ اگر ہم ہر روز اقصی کی مظلومیت کا غم منائیں اقصیٰ پر صیہونیت کے ناجائز قبضے پر روئیں اور اقصیٰ کی جدائی میں تڑپیں تو بھی حق یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔کیونکہ اقصیٰ کا حق سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے لوگ ہی ادا کر گئے

یہودی انتہا پسند جون 1967 سے لیکر اب تک سو سے زائد مرتبہ اس مقدس مسجد پر حملہ کر چکے ہیں اور ان حملوں کے لیے ان تاریخوں کو انتخاب کیا جاتا ہے جب مسلمانوں کوخیبر کے غدار یہودیوں پر فتح حاصل ہوئی تھی اور یہ مسلمانوں کی غیرت پر ایک تازیانہ ہے ہم یہاں سالانہ یوم القدس منا کر سرخرو ہو جاتے ہیں جبکہ یہودی اپنے اعمال سے ہمیں بخوبی باور کرواتے ہیں کہ امت مسلمہ اب بانجھ ہو چکی ہے جو صلاح الدین ایوبی جیسے فرزند پیدا نہیں کر سکتی اگر ہم فاتح القدس نہیں بن سکتے تو کم از کم محافظ القدس توبنیں تاکہ روز قیامت اللہ اور اس کے رسولﷺ کے سامنے سرخرو ہو سکیں ورنہ ہمارا طرز عمل اور بے حسی روز قیامت ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے سامنے شرمندہ کروا دے گی اس شرمندگی سے فقط وہی بچے گا جو اقصیٰ کے دکھ کو اپنا دکھ اور امت مسلمہ کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے یہ ایمان والوں کا امتحان ہے کہ کون اپنے جذبات اور عمل کا رخ کس طرف موڑے رکھتا ہے

ایک بار اوربھی مدینہ سے فلسطین آ

راستہ تکتی ہے پھر مسجد اقصیٰ  تیرا!

بنت مہر
بنت مہر
کرانا ہے قلم ہاتھوں کو، رودادِ جنوں لکھ کر تو اس دور ستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *