سب دنگ ہیں۔۔حلیمہ بی بی

ہم اتنے وفادار لوگ ہیں کہ اپنے آبا کی روایات بھولنے کے نہیں، چھوڑنے کے نہیں۔ چاہے اس کے عوض کوئی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔ مذہب، سائنس، کامن سینس، علم، عقل وغیرہ کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے، سب پیچھے چھوڑ دیں گے۔ ہمارے اسلاف اس وفا شعاری پہ دنگ ہیں۔ قرآن پاک قریش کے ہٹ دھرم لوگ جو رسول کی بات کو جھٹلائے جارہے تھے، انکے بلا جواز عذر کے بارے میں بتاتا ہے کہ :

“اور جب ان سے کہا جائے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں : بلکہ ہم تواس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ وہ ہدایت یافتہ ہوں ؟” (البقرہ : 170)

یونہی اسلاف کا ذکر چھڑا تو یہ آیت یاد آگئی۔ خیر، ہم کہاں تھے۔ تھے نہیں بلکہ ‘ہیں’ خرافات کی زد میں۔ ہمارے یہاں قینچیاں گھر کے گھر تباہ کروا چکی ہیں۔ اس کے لیے بس اُسے خالی چلانا ہے، بغیر کپڑا یا کاغذ درمیان  میں رکھے اور بس، پھر لڑائیاں آپ دیکھیں گے کہ عروج پر ہونگی۔ اگر آپکو یہ بات ابھی پتا چلی ہے تو دنگ نہ ہوں۔ مجھے بھی پہلے علم نہ تھا۔ دس سال عمر تھی جب محلے کی آنٹی کے گھر پڑی قینچی اٹھا کر یونہی اسے چلانا شروع کردیا۔ آنٹی قریب قریب ایک سو بیس کی سپیڈ سے دوڑتی ہوئی آئیں اور مجھ سے قینچی لے لی، مجھے لگا ہاتھ کٹ جانے کے ڈر سے فکر مند ہوئی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی میرے خیالات رد کرتی ہوئی انکی آواز گُونجی بیٹا ایسے نہیں کرتے ورنہ گھر میں لڑائی ہو جاتی ہے۔ سائنس کو معلوم ہوا تو وہ دنگ رہ گئی کیونکہ ہم نے بغیر وسائل ایک ایسی وجہ تلاش کرلی جو سائنس وسائل کے ہوتے ہوئے بھی شاید کبھی تلاش نہ کر پاتی۔ یہ ہوتی ہے وفاداری کی طاقت۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔

سائنس چونک اٹھی جب اس بات سے آشنا ہوئی کہ قد چھوٹے رہ جانے کی وجہ ہمارے بڑے بہن بھائی ہیں جو بچپن میں ہمارے اوپر سے پھلانگ گئے تھے اور ہمارے قد چھوٹے رہ گئے۔ ہمارے ساتھ اکثر معاملات میں غیبی مدد رہتی ہے، اور اُسکی پیغامبر ہماری آنکھ ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ بُرے اور اچھے کام سے پہلے ہماری آنکھ پھڑک اٹھتی ہے۔ اگر تو بائیں آنکھ پھڑکے تو اشارہ ہے کہ برے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اگر دائیں پھڑکتی ہے تو مطلب کچھ اچھا ہونے کو ہے۔ یہ سن کر دین حیران  ہے۔ کہ جس الہام کی طاقت اُس نے خود نہیں بخشی وہ ہم نے اپنی کاوش سے ہی حاصل کرلی۔جیسے آجکل کے کارٹونز میں ہیروز کو کچھ اچھا یا برا ہونے کے سگنلز پہلے مل جاتے ہیں۔

ایک موصوف نے بتایا کہ کالی بلی نے انکا ایکسیڈنٹ کروا دیا۔ خاصا افسوس ہوا اور پھر موصوف کی رحم دلی پر رشک آا۔ میں نے پوچھا یعنی بلی سامنے آگئی اور اسے بچاتے بچاتے آپکی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ؟ بولے نہیں، گھر سے نکلتے ہوئے کالی بلی نے میرا راستہ کاٹ لیا تھا، پھر کچھ بُرا تو ہونا ہی تھا۔ وہاں الزام خود دنگ تھا یہ مجھے کس پر لگا دیا گیا۔ توہمات پرستی سب پر بازی لے گئی، سائنس، علم، مذہب، اور حتی کہ عقل پر بھی۔ یہ موضوع بہت عرصے سے دوہرایا جارہا ہے، پرانا لگتا ہے۔ باوجود اسکے ہماری جانب سے برتی جانے والی غفلت آج بھی نئی ہے۔ خود میرے گھر میں آج تک ان سب باتوں پر کسی حد تک یقین کیا جاتا ہے۔ جب تک بدشگونیوں کا جال کٹ نہیں جاتا اور ہم آزاد نہیں ہو جاتے ،اس معاملے کو دوہراتے رہنا ہے، آگاہ کرتے رہنا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں : “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک فال ( اچھے شگون ) اچھی لگتی تھی، اور فال بد ( برے شگون ) کو ناپسند فرماتے۔” (تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف۱۵۰۶۹)

درمیانی شب میں یہ تحریر لکھی گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ نیند سے کچھ دیر کے لیے بیدار ہونے پر آنکھ پھڑکتی ہوئی محسوس کی۔ اور ذہن مذکورہ بالا تمام اذکار میرے سامنے لے آیا۔ میں نے بھی ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر نہ  کرتے ہوئے سب کاغذ پر جوں کا توں چھاپ ڈالا۔ حال یہ ہے کہ اب نیند آ نہیں رہی کیوں کہ وہ بھی دنگ ہے۔ آپ بتائیں ؟ یہ پڑھ کر آپ بھی کہیں  دنگ تو نہیں؟

Haleema Bibi
Haleema Bibi
Student

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *