بیمہ زندگی کا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

A ROGUE POEM
گذشتہ صدی کے سن ستّر کی دہائی میں دو برسوں کے لیے میں برطانیہ میں مقیم تھا، اس وقت لنڈن کی گلی کوچوں میں بولی جانے والی زبانCockney
Rogue Poemکا دور دورہ تھا. اس دوران میں کے زیر عنوان ، وقتی طور پر “کاکنی” کے تحت یہ صنف ،ِ سخن معرض ِ وجود میں آ گئی تھی۔
میں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی کچھ اردو نظمیں لکھی تھی۔ یہ ان میں سے ایک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیمہ زندگی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں تو کل تک ہمیشہ رہتی تھی ، نالہ کش
مبتلائے غم، روتی دھوتی ہوئی وہ بی بی
کہاں تو کل تک’’سُرڑ سُرڑ‘ ‘ ناک میں ہمیشہ
سرکتی رہتی تھی اور آنکھوں میں ایک سیلاب ِ آب
ہاتھوں میں اشک شوئی کے واسطے ایک چیتھڑا ۔۔۔
اس کا خاص حلیہ تھا

’’یہ ذات مردوں کی ۔۔۔
۔۔۔اس میں کیڑے پڑیں۔۔‘‘۔وغیرہ
ہزار صلواۃ، لاکھ بہتان، تہمتیں
مرد ذات، بھڑوے، کمینے، کنجر
اُگال دانوں کے پیٹ سے نکلی
کیچ سی گالیوں کی بوچھاڑ ۔۔۔

۔۔۔۔اور کہاں اب
یہ، چُہل، ٹھٹّھا، ٹھمک ٹھمک قہقہے، لطیفے
ہنسی جو رکتی نہیں ہے روکے ہوئے بھی قطعاً
ضیافتیں، پکنکیں،بلا نوش دوست
بیئر، برانڈی ، جِن، واڈکا ۔۔۔۔شرابوں کی بیس اقسام۔۔۔
۔۔۔۔ کیسا یہ انقلاب آیا ہے، کوئی پوچھے
یہ کل کی اس غمزدہ لُگائی سے
’’اے جنابہ، بتائیے تو۔۔۔۔ ”

وہ کھلکھلائی ۔۔۔’’یہ معجزہ تو۔۔
“جناب ِ من ۔۔۔اب تو ہو گیا ہے
۔۔۔سکوڑ کر اپنی ناک اُس نے کہاتکبر سے
۔۔۔۔میرے ہسبنڈ نے بیمہ کی پالیسی خریدی تھی ”
میں نے اس کو کہا تھا، ـ پاگل بھی ایسے ہوتے ہیں ۔۔۔
لاکھ، دولاکھ پاؤ نڈ کافی نہیں ہیں کیا پالیسی کی خاطر؟
مگر وہ ضد پر اڑا رہا تھا کہ پالیسی پانچ لاکھ کی
“۔۔۔اور حادثے میں وفات دس لاکھ کی ہی ہو گی۔

عجب ہونق تھا ۔۔۔ جانتا بھی تھا کہ
اس کو مرنا ہے حادثے میں
سمجھتا بھی تھا کہ اس کے مرنے پہ یہ رقم مجھ کو ہی ملے گی
“مگر وہ ضد پر اڑا رہا۔۔۔۔

غمزدہ لُگائی نے ، روتے روتے
کہ ہنستے ہنستے(کہا یہ مجھ سے)
یہ حادثہ بھی تو ایک “چالو” گلی کے غنڈے
کی “مہربانی” سے ہی ہوا تھا
—————

A Rogue Poem in Urdu
اک اُلو کا پٹھّاطوطا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتویں دن تک جب وہ اپنی آنکھیں میچے
پنجرے میں ہی پڑا رہا تو میں نے پوچھا
میاں جی، مِٹھّو، کب تک ایسے پڑے رہو گے؟

مِٹھّو نے میچی آنکھوں کو کھول دیا
دھیرے سے بولا:
مردہ سمجھو گے تو شاید
پنجرے کا دروازہ کھول کے
مجھ کو
باہر باغ میں رکھ کر سوچو گے تم
ہوئی خلاصی اس باتونی طوطے سے اب ۔۔۔۔
۔۔۔۔میں البتہ موقع پا کر اُڑ جاؤں گا

ٹھیک ہی سمجھا تھا تم نے تو
میں پنجرے کو کھولنے آیا تھا ۔۔میں بولا
تا کہ تمہارے مردہ جسم کو باہر لا کر
کھڑکی کی پّٹی پر رکھ دوں
لیکن تم کچھ سمجھ نہ پائے
پھنس گئے اُلو کے پٹھے تم
اب باقی کی عمر یہیں پنجرے میں کاٹو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مرکزی خیال مولانا رومی سے)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *