• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • وبائی حالات میں عید الفطر منانے کی بحث اور رسول اللہ ﷺ کا اسوہ مبارک۔۔انیس احمد ندیم

وبائی حالات میں عید الفطر منانے کی بحث اور رسول اللہ ﷺ کا اسوہ مبارک۔۔انیس احمد ندیم

سورةالبقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ماہِ صیام کی فرضیت اور برکات کا ذکرکرتے ہوئے عید الفطر کے مفہوم کو بڑی لطافت اور خوبصورتی سےبیان فرمایا ہے۔ رمضان کی فرضیت، برکات اور مسائل بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَلتُکْمِلُو ا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلیٰ مَا ھَدَاکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن(البقرہ)

اور(اللہ تعالیٰ) چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے تاکہ تم شکر کرو۔

گویا عید الفطر کا تہوار روزوں کی تکمیل کا دن ہے ۔یعنی یہ مبارک دن خدا تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت کے اظہار کا موقع ہے اور عید الفطر کا تہوار اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر شکر گزاری کی تقریب ہے ۔

ہمارے سید و پیشوا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کا تہوار منانے کے لئے اسی روحانی زیبائش کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عید کا حقیقی حسن اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور حمد وتقدیس کے بیان میں ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :۔

زینوا اعیادکم بالتکبیر ( معجم الاوسط للطبرانی)

یعنی اپنی عیدوں کو اللہ اکبر کے ذکر سے سجاؤ۔

ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ۔۔

زینو العیدین بالتھلیل والتکبیر والتحمید والتقدیس( حلیہ الاولیاء الابن نعیم)

عیدین کو لا الہ اللہ ، اللہ اکبر ، الحمد للہ اور سبحان اللہ کے ورد سے زینت بخشو۔

احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ عید الفطر کے موقع پر نماز کی جگہ پر پہنچنے تک اور عید الاضحی کے موقع پر ایام تشریق کے دوران تکبیرات کا ورد فرماتے تھے۔ اایک حدیث کے مطابق آپ یہ الفاظ دہرایاکرتے ۔

اللہ اکبر،اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر ، وللہ الحمد

( مصنف ابن ابی شیبہ جلد1ص490)

آنحضور ﷺ کی پہلی عید

آغازِ اسلام پر15-14برس گزرنے کے بعد جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لا چکے اور ہجرت کا دوسرا سال تھا تو اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض فرمائے اوراس کے بعد مدینہ میں پہلی عید الفطر منائی گئی ۔ اس بارہ میں مؤرخین متفق ہیں کہ ۔

أن أول عيد صلی فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر من السنة الثانیہ

(تلخیص الحبیر از حافظ ابن حجر عسقلانی ۔کتاب صلاة العیدین۔ صفحہ159)

غیر معمولی حالات میں رسول اللہ ﷺ کی عیدیں

جیسا کہ تواریخ سے ثابت ہے کہ آنحضورﷺ نے پہلی عید الفطر سن 2 ہجری کو منائی ۔ اور اس کے بعد آپ کی حیات مبارکہ میں9 عیدیں آئیں اور اس دوران ماہِ صیام کی فرضیت سے لے کر وفات تک کا عرصہ آپ کی حیات مبارکہ کا مصروف ترین دور تھا ۔ اسی عرصہ کے دوران مخالفین کی طرف سے مسلمانوں پر پے در پے حملے کئے گئے اور اور آپ کا بہت سا قیمتی وقت دفاعی جنگوں میں صرف ہوا۔مدینہ میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے بعد آپ کی ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ۔ تبلیغِ اسلام اور اشاعت قرآن کی مہم بھی زور وشور سے جاری تھی۔ قرآن کریم نےآپ کی غیر معمولی مصروفیات کا نقشہ ’’سَبْحا طَوِیلا ‘‘ کے الفاظ میں بیان فرمایاہے۔

اس مضمون میں دیے گئےجدول سے ظاہرہے کہ بدر ، احد اور فتح مکہ جیسے غیر معمولی واقعات رمضان یا شوال کے مہینوں میں پیش آئے ۔یہاں سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان ایام میں ﷺ اور آپ کے مخلص وباوفاء ساتھیوں کو کیسے کیسے ہنگامی حالات سے گزرنا پڑا ۔ غزوہ بدر کے معرکہ سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ پہلی عید الفطر کا مبارک دن آگیا ۔ اگلے ہی سال عید الفطر کے فوری بعد مشرکین مکہ کے دوسرے حملہ کا سامنا کرنا پڑا اور غزوہ اُحد پیش آیا ۔ ان غزوات سے کئی ہفتے پہلے او ر کئی ہفتے بعد گویا ایک ہنگامی صورتحال تھی جس سے آپ کو گزرنا پڑا۔

مگر رمضان کی برکات کے ساتھ عید کی آمد گویا آپ کے لئے راحت وسکون کا لمحہ تھا ۔کیونکہ خدائی تعالیٰ کی بڑائی اور شان کے اظہار کا موقع آپ کو نصیب ہورہا تھا اور یہی آپ کا مقصدِحیات اور سکون قلب تھا۔ ان ایام میں بھی آپ نے عیدیں منائیں ۔ ان مشکلات اور مصائب کے دنوں میں بھی آپ کے قلب مبارک سے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ کی صدائیں بلند ہوتی رہیں اور خدا تعالیٰ کی حمد و ثناءاور بڑائی کے اظہار کے لیے آپ تادمِ وفات کوشاں رہے ۔سیرت کی مستند کتابوں کی روشنی میں ماہِ صیام کی فرضیت کے بعد رمضان اور شوال کے مہینوں کی بعض غیر معمولی مصروفیات کی ایک معمولی سی جھلک پیش ہے۔

 

گویا سن 2 ہجری سے لے کر 10 ہجری تک آپ کی حیات مبارکہ میں9عیدیں آئیں ۔اور ان مصروفیات کے دوران جوں ہی آپ کو امن وقرار کی کوئی گھڑی نصیب ہوئی آپ کا قلب مبارک خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء اور شکرکے جذبات میں محو ہوگیا ۔

اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ ان 9/8سالوں میں آپ ﷺکو بدراور اور احد کے دور میں سے گزرنا پڑا ۔ مدینہ پرغزوہ خندق جیسا خوف و خطر کا وقت بھی آیا جن ایام کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وَإِذْ زَاغَتْ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ کہ عالم یہ تھا جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (اچھلتے ہوئے) ہنسلیوں تک جا پہنچے ۔ پھر اسی عرصہ میں مدینہ شدیدقحط سالی سے دوچار ہوا اور انہیں سالوں میں غزوہ تبوک، حنین اور فتح مکہ جیسے واقعات پیش آئے۔ مگرآپ اپنے رب کی رضا پر راضی رہتے ہوئے عُسر ویسر میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء اور تکبیر و تقدیس میں کوشاں رہے۔

کیا نماز عید گھر میں ادا کی جاسکتی ہے؟

آجکل کے حالات میں مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن یا ایمر جنسی کے نفاذ کی وجہ سے نماز عید کا مسئلہ زیر غور ہے ۔ جب اکثر مقامات پر اجتماعات کی ممانعت ہے اور سماجی فاصلے اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے تو اس موقع پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیاگھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ نماز عید پڑھی جاسکتی ہے نہیں ؟یا عید پڑھنے کے لئے اہل شہر کا کسی عید گاہ یا جامع مسجد میں جمع ہونا ہی ضروری ہے ؟اس سلسلہ میں درج ذیل تعلیم ہمارے لئے راہ عمل ہے :۔

1۔نماز جمعہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں شمولیت کےلئے سورة الجمعہ میں فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ کے الفاظ میں تاکیدی حکم دیدیا گیا ۔ جبکہ عیدین کی فرضیت اور تاکید کے بارہ میں ایسا کوئی حکم قرآن کریم میں موجود نہیں ۔ لہذا موجودہ وبائی حالات میں اگر نما ز جمعہ کے لئے متبادل صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں تو عید کے لئے کوئی باسہولت راستہ اختیار کرنا کیسے ممنوع ہوسکتا ہے؟

2۔ایک بارش کے موقع پر حضرت عبد اللہ بن عباس نے اذان کے دوران’’ صلو ا فی بُیوتِکم‘‘ یعنی گھرو ں میں ہی نماز پڑھ لو کا اعلان کرنے کا ارشاد فرمایا اور یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ایسا کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔پس اگر عید کو جمعہ کی فرضیت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو گھر میں عید پڑھنے کے لئے اس ارشاد سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

3۔اگر کسی گاؤں،شہر یا ملک میں کوئی ایک گھرانہ ہی مسلمان ہو تو ایسی صورتوں میں عید کی نماز گھر پر ہی اداہوسکتی ہے ۔ صحابہ رسولﷺ کے اسوہ سے ثابت ہے کہ کسی مجبوری کی صورت میں اپنے اہل خانہ کو گھر میں ہی جمع کرکے ویسے ہی نماز عید پڑھی جاسکتی ہے جس طرح جامع مسجد میں پڑھی جاتی ہے۔ ۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کرتا ہے :۔

وامر انس بن مالك مولاهم ابن ابي عتبة بالزاوية فجمع اهله وبنيه وصلى كصلاة اهل المصر وتكبيرهم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے غلام ابن ابی عتبہ زاویہ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ انہیں آپ نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں اور بچوں کو جمع کر کے شہر والوں کی طرح نماز عید پڑھیں اور تکبیر کہیں۔

(الجامع الصحیح للبخاری۔ کتاب العیدین ۔بَابُ إِذَا فَاتَهُ الْعِيدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ)

4۔ایسے مواقع پر عید کا وہی طریق اختیار کیا جاسکتا ہے جو مسجد میں امام کی اقتداء میں عید پڑھتے ہوئے اختیار کیا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا روایت میں كصلاة اهل المصر وتكبيرهم یعنی شہر والوں کی طرح عید پڑھنا اور تکبیرات کہنا اور مندرجہ ذیل روایت میں مثل صلاة الإمام في العيد یعنی جیسے امام عید پڑھاتا ہے کے الفاظ سے یہ مضمون مترشح ہے کہ جس طرح امام عید پڑھاتا ہے ویسے ہی عید پڑھی جائے گی۔ گویا عید کی نماز کے وقت زائد تکبیرات کہنا اور امام کی طرح خطبہ عید دینے کا جواز موجود ہے۔

عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس بن مالك خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “كان أنس إذا فاتته صلاة العيد مع الإمام، جمع أهله فصلى بهم مثل صلاة الإمام في العيد

عبید اللہ بن ابو بکر بن انس بن مالک جو خادم رسول ﷺتھے بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس (کسی موقع پر) امام کے ساتھ نماز عید ادا نہ کر سکے ۔یا آپ کی عید کی نماز رہ گئی تو آپ نے اپنے اہل خانہ کو اکٹھے کیا اور ان کے ساتھ مل کر اسی طرح نماز عید ادا فرمائی جیسے (عموما ) امام نماز عید پڑھاتا ہے۔

( السنن الکبری للبیھقی ۔ کتاب صلاة العیدین۔ باب صلاة العیدین سنة اھل الاسلام)

گھروں میں عید پڑھتے ہوئے کیا طریق اختیار کیا جائے؟

جن ممالک میں وبائی حالات کی وجہ سے اجتماعات کی ممانعت ہے۔ یا سماجی فاصلے اختیار کرنے کی ہدایات دی جاری ہیں ۔ وہاں ملکی قوانین پر چلنا اور لوگوں کی صحت اور حفاظت کی خاطر تعاون کرنا ضروری ہے ۔لیکن عید الفطر تو دراصل روزوں کی تکمیل کا دن۔ اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے اور شکر کے اظہار کا موقع ہے ۔لہذا ہر قسم کے حالات اور عسر ویسر کی کیفیات میں ہمارے دل اللہ تعالیٰ کے حضورحمد وثنا سے لبریز ہونے چاہیئں کہ ہمیں رمضان کی نعمت نصیب ہوئی ۔ ہمیں اس بات پر شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے حصول کا ایک مبارک موقع ہمیں عطا ہوا ۔ حمد و شکر کے ان جذبات کے ساتھ گھروں میں عید پڑھتے ہوئے بھی رسول اللہﷺکے مبارک اسوہ پر چلتے درج ذیل مناسک کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہیں آسکتی۔ پس کیوں نہ ہم اس عید کو ایسی یادگار عید بنادیں کہ ہمارے گھر تکبیر کی صداؤں سے گونج اُٹھیں اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھلائے ہوئے طریق کے مطابق اپنے گھروں کو خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء سے بھر دیں ۔ موجودہ مشکل حالات میں بھی سنت مبارکہ کے درج ذیل پہلو اختیار کرتے ہوئے ہم اس عید کو حقیقی معنوں میں ایک یاد گارعید بنا سکتے ہیں ۔

1۔آنحضوﷺنے عیدین کی رات کو عبادت کرنے والوں کو خوشخبری عطا فرمائی ہے کہ جس دن دل مردہ ہوجائیں گے تو ایسے لوگوں کے دل پھر بھی زندہ رہیں گے۔ ( سنن ابن ماجہ)

2۔ آنحضور ﷺ عید کے دن غسل فرماتے تھے ۔ ( زاد المعاد)

3۔عید کے موقع پر اچھی قسم کا یمنی لباس زیب تن فرمایا کرتے تھے۔(نیل الاوطار)

4۔ عید الفطر کے دن آپ کچھ کھجوریں تناول فرماکر عید کی نماز پڑھتے ۔( صحیح بخاری)

5۔ عورتیں بھی عید کی نماز میں شامل ہوتی تھیں ۔( صحیح بخاری)

6۔آپ ﷺ نے عید کی نماز سے قبل فطرانہ ( صدقہ الفطر) کی ادائیگی واجب قرار دی ہے۔( بخاری وابن ماجہ)

7۔ عید کی نماز سے قبل اقامت یا اذان نہ کہی جاتی تھی۔ (صحیح مسلم)

8۔ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز نہ پڑھتے تھے ۔(تحفة الاحوذی)

9۔عید الفطر کے موقع پر پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ زائد تکبیریں کہتے۔(مسند احمد)

10۔آپﷺ خطبہ عیدکی نماز کے بعد ارشاد فرماتے ۔(نیل الاوطار)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *