• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پچاسویں قسط،حصّہ ششم )۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پچاسویں قسط،حصّہ ششم )۔۔گوتم حیات

SHOPPING

تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں سب ہی قوموں اور قبیلوں کے جرائم محفوظ ہو چکے ہیں۔ کتنے ہی زمانے گزر گئے اور ان زمانوں میں کئی سماجی و سیاسی، اخلاقی اور مذہبی نظریات کو انسانوں پر مسلط کیا گیا۔۔۔
ہر نیا آنے والا مذہب اور سماجی و سیاسی نظریہ طاقت حاصل کر کے اپنے سے پہلے رائج مذاہب اور نظریات کو روندتا ہوا گزر گیا۔ لاتعداد جنگیں لڑی گئیں، جس میں انسانوں نے اپنے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں مثال کے طور پر ہاتھی، گھوڑے، کُتّے اور کبوتروں کو جنگی مقاصد کے تحت استعمال کیا گیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

SHOPPING

انسان چاند پر قدم رکھنے کے بعد مریخ اور دوسرے سیاروں پر پہنچنے کی جستجو میں ہے، نئے نئے سیاروں کی دریافت ہو رہی ہے۔ غرض آج کا جدید انسان بہت ترقی کر چکا ہے لیکن افسوس کہ ابھی تک اس کے ہاتھ انسانیت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ طاقتور اور کمزور ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ بےپناہ پیسہ جنگی سازوسامان پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ گزرے ہوئے کل کے حاکم آج کے محکوم ہیں، اسی طرح آج کے حاکم آنے والے کل کے محکوموں میں شمار ہوں گے۔ طاقت کی دیوی باری باری سب ہی قوموں و قبیلوں پر ایک خاص مدت تک مہربان ہو کر ان کے جرائم کو تاریخ کی لوح میں محفوظ کر رہی ہے۔ ہم چاہ کر بھی تاریخ کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق نہیں ڈھال سکتے۔ جو لمحہ بیت چکا وہ اب تاریخ کی لوح میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ ہم اس گزرے ہوئے لمحے میں واپس جا کر اپنی مرضی کے مطابق ذرا بھی تبدیلی نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی لمحے کو کھرچ کر مٹا سکتے ہیں۔
آج میں اپنی ڈائری کی پچاسویں قسط کا چھٹا حصہ لکھ رہا ہوں۔ زاہدہ حنا نے اپنی تحریروں میں گزری ہوئی تاریخ کو بارہا یاد کیا ہے۔ یہ وہ تلخ تاریخ ہے جس کو ہماری اشرافیہ نے ہمیشہ دبانے کی کوشش کی ہے۔
اس جدید دور میں ریاستوں کی طرف سے تاریخ کے نام پر من پسند نظریات کو اسکولوں اور کالجوں میں نصاب کا حصہ بنا کر، معصوم طالبعلموں کے ذہنوں میں زہر بھرا گیا ہے۔ حب الوطنی کے نام پر ان کے کچّے ذہنوں میں خود کو برتر اور دوسری اقوام و مذاہب کو کمتر ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش بروئے کار لائی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا کے دو ملکوں پاکستان اور ہندوستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں نہایت ہوشیاری سے عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ کا وجود خطرے میں ہے اور دشمن آپ پر بس حملہ کرنے ہی والا ہے۔
یہ دشمن آخر کون ہے؟
کون برتر ہے اور کون کمتر ہے؟
کیا پاک و ہند سرحد کے دونوں جانب رہنے والے کروڑوں لوگ واقعی میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔۔۔؟؟
یہاں پر ان سوالوں کو سمجھنے کے لیے میں زاہدہ حنا کے ایک مضمون کا سہارا لوں گا۔ یہ مضمون میڈم نے مارچ دوہزار تین میں “پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیماکریسی” کے تحت ہونے والے ایک سیمینار میں پڑھا تھا۔ یہ ایک طویل مضمون ہے جو بعد میں ارتقاء لٹریری میگزین میں بھی شائع کیا گیا۔
“دشمنی کی بند گلی” کے عنوان سے تخلیق کیا گیا یہ “شاہکار مضمون” پاک و ہند سرحد کے دونوں جانب کی ریاستی اشرافیہ کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے۔ میں یہاں پر اس کے کچھ منتخب پیراگراف شامل کر کے قارئین کے سامنے مختصر طور پر اپنا نقطہ نظر بھی پیش کرنا چاہوں گا۔
زاہدہ حنا لکھتی ہیں:
“برصغیر میں مسلمانوں کا داخلہ حملہ آورں کے طور پر ہوا۔ پہلے پہل انہوں نے جزیہ وصول کیا اور اموی سلطنت کے خزانوں کو ارسال کیا۔ ان کے بعد وہ آئے اور بار بار آئے جن کا مقصد مالِ غنیمت سمیٹنا اور اپنے دارالسلطنت غزنی کو لوٹ جانا تھا۔ انہوں نے اسلام پھیلانے  کا دعویٰ کیا اور یہ “دعویٰ” اتنا ہی سچّا تھا جتنا آج عراقی عوام کو “جمہوریت” اور “آزادی” کا تحفہ دینے کا جارج بش کا دعویٰ۔
ہندوستان پر مسلمان حکمرانوں کے ابتدائی حملوں کا قتیل “اسلام” تھا اور آج “جمہوریت” جارج بُش کی لونڈی ہے جو بغداد کے کھنڈروں میں گریہ و ماتم کرتی ہے”
مندرجہ بالا پیراگراف میں زاہدہ حنا نے گزری ہوئی صدیوں کا حال کے ساتھ کیا ہی کمال انداز میں نقشہ پیش کیا ہے۔ کیا ہم قرونِ وسطیٰ کے جابر حکمرانوں اور موجودہ اکیسویں صدی کے جابروں میں کوئی فرق کر سکتے ہیں۔۔۔ سوائے قومیتی اور مذہبی فرق کے۔۔۔ اس کے علاوہ تو ان کے درمیان کوئی خاص فرق محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ ظلم کی وہی داستانِ الم جو ہزاروں سالوں سے دہرائی جا رہی ہے۔ مذہبی اور سیاسی نظریات کو اپنے تئیں محکوم عوام پر مسلط کرنے کے دعوؤں کے پیچھے وہی ایک چیز کارفرما ہے جس کو ہم آسان لفظوں میں ظلم و بربریت، لوٹ کھسوٹ، لالچ اور قبضہ گیریت کہیں گے۔
تقسیم ہند کے وقت جو قتل و غارت گری ہوئی اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس مضمون کی مدد سے میں قارئین کو بتانا چاہوں گا کہ یہاں پر تقسیم ہند کے فوراً بعد ہمارے حکمرانوں نے کیا پالیسی اختیار کی۔۔۔ کیا یہ پالیسی سودمند تھی۔۔۔؟ اس بات کا فیصلہ میں پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔
میڈم رقمطراز ہیں کہ:
“چودہ اور پندرہ اگست1947کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے آج دو دشمن آزاد ہوئے ہیں، تب ہی تو ستمبر، اکتوبر1947 کے مہینوں میں حکومتِ پاکستان نے امریکہ سے کروڑوں کے ہتھیار خریدنے کی درخواست بھیجی تھی۔ ہندوستانی حکومت کا حال بھی پاکستان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ غرض پہلے دن سے “دشمن” تخلیق کر لیا گیا اور اب چھپن برس میں یہ دشمنی دونوں طرف کے کروڑوں انسانوں کے ذہنوں پر قبضہ کر چکی ہے۔ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک وہ دوسرے کو ختم نہیں کر لیں گے، اس وقت تک ان کی سلامتی خطرے میں رہے گی”
تو آزادی حاصل کرنے کے ایک ماہ بعد سے ہی ہماری حکمراں اشرافیہ نے اسلحے کی خریداری کے لیے سات سمندر پار عرضی جمع کروا دی تھی۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب سرحد پار سے مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے کسمپرسی کی حالت میں نوزائیدہ ملک پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھ رہے تھے، اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے قافلے پاکستان سے ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے، یہاں پ مہاجرین کے کیمپوں کی بری حالت تھی، اشیائے خوردونوش کی کمیابی کے علاوہ نت نئے مسائل کا انبار سر اٹھائے کھڑا تھا۔ ایسے میں غریب عوام کے زخموں پر مسیحائی کے مرحم رکھنے کے بجائے راتوں رات خودساحتہ دشمن کے تصورات کو گھڑ کر عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ دشمن بس آپ کو ختم کرنے کے درپے ہے اور اس کا توڑ کرنے کے لیے اسلحے کی خریداری بہت ضروری ہے، یہی اسلحہ عوام کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا پرچار کیا جا رہا تھا۔ افسوس کہ گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ اس دشمنی کو کامیابی سے سرحد کے دونوں جانب فروغ دیا گیا۔ یہ مضمون تو اس وقت لکھا گیا جب پاکستان ابھی  چھپن برس کا ہوا تھا، آج ستّر برس گزر گئے اور حالات پہلے سے کہیں زیادہ گھناؤنا رخ اختیار کر چکے ہیں۔
زاہدہ حنا کے افسانے ہوں یا کالم، ناولٹ ہو یا مضامین، ان میں تاریخ اور بیتے ہوئے زمانوں کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں شروع دن سے ہی آزاد افکار کا گلا گھونٹا گیا ہے۔ کبھی اخبارات و جرائد پر پابندیاں لگائی گئیں اور کبھی ادیبوں کو زر و جواہر میں تول کر انہیں خرید لیا گیا، لیکن اس کے باوجود کچھ معتبر لکھاری ایسے بھی تھے اور ہیں جنہوں نے ہر دم اپنے ضمیر کو زندہ رکھا، ضمیر کی آواز کو مضبوطی سے تھام کر اپنے حوصلوں کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی پست نہیں ہونے دیا، امیدوں کی شمعیں اپنے دل و دماغ میں منور  کرکے  ایسی لازوال تحریروں کو تخلیق کیا جو ہم سب پڑھنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر زاہدہ حنا کی شخصیت اور ان کی تخلیقات کی بات کی جائے تو میرے خیال میں پاکستانی ادیبوں کی مختصر سی صف میں آپ کا مقام حقیقی معنوں میں بلند ہے۔ زمانہ طالب علمی سے موجودہ لمحے تک مشکل سے مشکل حالات کو آپ نے نہایت ہی بہادری سے شکست دی ہے۔ تاریک شب و روز میں لفظوں کے دیپ جلا کر انہوں نے روشنیوں کو پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اسی لیے ان کی تحریروں میں وہ زندگی ہے جو ہمیشہ قائم ودائم رہے گی۔ میرا ماننا ہے کہ خونِ جگر سے تخلیق کی گئی تحریروں کے آفتاب کو کبھی گرہن نہیں لگتا، کچھ ایسی ہی تابندگی اور ہمیشگی میڈم کی تحریروں میں موجود ہے۔
روزنامہ جنگ اخبار کے لیے رضیہ فرید کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کے اس سوال پر کہ آپ نے خود ادب اور صحافت میں کس طرح توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔۔۔؟ تو میڈم کا جواب تھا؛
“ادب اور صحافت دونوں کے تقاضے الگ ہیں۔۔۔
‘ایک شہرت عام’ کا شعبہ ہے اور دوسرا ‘بقائے دوام’ کا۔ مجھے شہرتِ عام حاصل کرنے کا دعویٰ نہیں اور جہاں تک بقائے دوام کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسی منزل ہے جو چند خوش نصیبوں کے حصے میں آتی ہے۔۔۔ اور یہ فیصلہ ہم خود نہیں کر سکتے، یہ فیصلہ صرف اور صرف وقت کرتا ہے”
اب ہم واپس مضمون کی طرف نگاہ کرتے ہیں۔ میڈم لکھتی ہیں؛
“خیالات وہ لفظ ہے جسے سن کر افلاطون اور ارسطو کا،
ابنِ رشد اور برٹرینڈ رسل ایسے فلسفیوں کا نام ذہن میں آتا ہے، لیکن پاکستان کے فوجی حکمراں اس لفظ کی توہین یوں کرتے ہیں کہ ‘آئیڈیاز’ کے بینر تلے ہتھیاروں کی نمائش کرتے ہیں اور ‘ہتھیار برائے امن’ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ہمارے یہاں سیاچن اور کارگل میں صرف جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوششیں نہیں ہوتیں، ہم اپنے اپنے نصاب کی کتابوں میں تاریخ بھی بدل دیتے ہیں۔ بدلی ہوئی تاریخ کے صفحوں پر دشمنی بوئی جاتی ہے اور پھر اس کی لہلہاتی ہوئی فصل سرحدی جھڑپوں، لڑائیوں، فرقہ وارانہ فسادوں، روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاریوں کی شکل میں کاٹی جاتی ہے۔ اپنے اپنے عوام کوذہنی اعتبار سے مفلس کرنے، ان کے اندر سے انسانیت ختم کرنے اور ہر مشترک قدر کی نفی کرنے کا یہ نفرت انگیز کام دونوں طرف ہو رہا ہے”
مندرجہ بالا پیراگراف پر کسی بھی قسم کا کوئی تبصرہ کیے بغیر میں پچاسویں قسط کے “چھٹے حصے” کا اختتام ان سوالوں پر کر رہا ہوں؛
آخر “دشمنی کی بند گلی” کا خاتمہ کب ہو گا۔۔۔؟؟؟
کیا ہم اس “گلی” میں انسانیت کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھنے کی آرزو میں ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائیں گے۔۔۔؟؟؟
کیا آنے والی صدیاں بھی اپنی تاریخ کو انسانیت کے خون سے داغدار کریں گی۔۔۔؟؟؟
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *