میرا پہلا یوم مزدور ۔۔۔ محمد حفیظ اللہ

 

1992 کی بات ہے میں ابھی میٹرک بھی نہ کر پایا تھا. والد محترم کی پنشن کچھ قانونی تقاضوں کی بنا پر رکی ہوئی تھی. حالات کی خرابی کی وجہ سے تعلیم کو کچھ وقت کے لئے خیر بادکہا اور مزدوری کے لئے نکل کھڑا ہوا. مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن میری زندگی کا پہلا دن تھا جب میں نے مزدوری کی. شدید گرمی .گھر سے نکلتے ہوئے ابو جی( اللہ پاک مغفرت فرمائیں) اور امی جی( اللہ پاک لمبی عمر عطا کریں) خاموش تھے اور دروازے تک رخصت کرنے آئے. بظاہر میں ہنستا کھیلتا رخصت ہوا. مگر ہم تینوں کی دل کی کیفیات سے ہو سکتا ہے آپ آگاہ ہوں.

کسی گھر کی چنائی ہو رہی تھی. ایک ٹھیکیدار نما مستری کے ساتھ اینٹ کی چنائی کا کام تھا. وہ اپنی پراگرس بہتر کر رہا تھا اور میں زور دے کر اس لئے کام کر رہا تھا کہ ابو جی نے کہا تھا کہ ایمانداری سے کام کرنے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے. بحرحال ہم اپنے اپنے مقصد کے تحت شام تک لگے رہے. شام ہوئی تو میرے ہاتھ میں 65 روپے اور زخم تھے جن سے خون رس رہا تھا. جسم شل تھا گھر آیا تو امی جی نے میرے ہاتھوں پر اپنے آنسوؤں بھرے بوسے رکھے اور میں نے ان کے ہاتھ پر 65 روپے.
شدید تھکاوٹ کی وجہ سے اس رات مجھے کوئی ہوش نہ تھا خیر صبح اٹھا کام پر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ امی جی نے نم آنکھوں کے ساتھ مجھے کہا
“نہ میرا لال ، میرا” فیجو” آج کام پر نہیں جائے گا”
میں زبردستی ہنسا اور امی جی سے اتنا کہہ کر کام پر نکل کھڑا ہوا
“امی جی اگر آج میں کام پر نہ جا سکا تو ساری زندگی کام پر نہ جا سکوں گا”
میں تب سے آج تک یوم مزدور منا رہا ہوں. کامیاب انسان ہوں کیونکہ میں نے ابو جی کی بات پر عمل کیا تھا.

محمد حفیظ اللہ بادل,

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *