• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • محی الدین اورنگزیب عالمگیر سلطنت مغلیہ کا چھٹا فرمانروا ۔۔مہرساجدشاد

محی الدین اورنگزیب عالمگیر سلطنت مغلیہ کا چھٹا فرمانروا ۔۔مہرساجدشاد

اورنگزیب عالمگیر جولائی 1658ء میں دہلی پر قابض ہوا جبکہ تاجپوشی کی رسومات جون 1659ء میں منعقد کی گئیں۔ اورنگزیب عالمگیر کی پیدائش پر اسکے دادا شہنشاہ جہانگیر نے جشن منعقد کیا اسکا نام بھی رکھا۔ 1626 میں شاہجہاں نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کی، بعد میں جب صلح ہو گئی تو اسکے دو بیٹے داراشکوہ اور اورنگزیب انکے دادا شہنشاہ جہانگیر کے پاس یرغمال بنا کر بھیج دئیے گئے۔

یہاں ان کی تعلیم میں تسلسل نہ رہا، تاہم اورنگزیب نے اپنے فطری میلان کے باعث مولانا عبداللہ سلطان پوری اور میر ہاشم گیلانی سے درس فضیلت حاصل کیا ،مغل بادشاہوں میں اورنگزیب عالمگیر  پہلے بادشاہ ہیں، جنہوں نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری، تیراندازی اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا ، پھر بارہ سال تک حرمین شریفین میں دینی و دنیاوی علوم حاصل کیے، وہ اسلامی فقہ کا ماہر تھا، اس نے فقہ کی تمام کتابوں سے انتخاب کر کے ایک ممتاز علماء کے ذریعے جامع کتاب “فتاویٰ  عالمگیری“ مرتب کروائی۔

تعلیم کیلئے وہ دل کھول کر خرچ کرتا تھا صوبائی گورنروں کو سخت احکامات تھے کہ مدرسے دارالعلوم اور مدرسین کی ضروریات پوری کی جائیں۔ اورنگزیب عالمگیر فن خود موسیقی کا بھی ماہر تھا لیکن اس نے اپنے عہد میں اس شیعہ کو بند کردیا, درباری گویوں نے مصنوعی جنازہ نکالا تو عالمگیر نے کہا ،اسے ذرا گہرا دفن کرنا تاکہ پھر نہ اٹھ سکے۔ مختلف سطح کے طالب علموں کو روزانہ وظیفہ دیا جاتا ،بے شمار  سکول مکتب اور مدرسے بنوائے جس سے چھوٹے چھوٹے قصبے بھی علمی مرکز بن گئے۔

شاہجہاں نے تعظیمی سجدہ تو ختم کیا لیکن انداز باقی تھا عالمگیر نے اسے مکمل ختم کردیا۔ اس نے پھانسی کی سزا ختم کی، زراعت کے فروغ کیلئے کنویں کھدوائے پل اور سڑکیں بنوائیں۔ قوال، نجومی، شاعرموقوف کر دیے گئے۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہرقسم کے محصول ہٹا دیے۔

وہ ماہر خطاط تھا متعدد قرآن پاک کے نسخے تحریر کیے، جنہیں مکہ اور مدینہ بجھوایا، اسکے ہاتھ سے لکھے ہوئے ،ایک قرآن پاک کے نسخہ کا عکس بادشاہی مسجد لاہور میں نوادرات کیساتھ محفوظ ہے۔ اپنے گزر واوقات کیلئے وہ ٹوپیاں سیتا اور خطاطی کرتا، اسکی وصیت یوں تھی “چار روپے دو آنے جو بیگم محل کے ہاں ٹوپیاں سی کر اکٹھے کیے اس بے چارے کے کفن ہر خرچ کریں، اور تین سو پانچ روپے جو کتابت قرآن سے حاصل ہوئے وہ وفات کے روز فقیروں میں بانٹ دیں”۔

عالمگیر نے 1666ء میں راجا جے سنگھ اور دلیر خان کو شیوا جی کے خلاف جنگ پر بھیجا۔ انھوں نے بہت سے قلعے فتح کر لیے جبکہ شیواجی اور اس کا بیٹا آگرے میں نظربند ہوئے۔ شیواجی فرار ہو کر پھر مہاراشٹر پہنچ گیا اور دوبارہ قتل و غارت گری شروع کی۔ 1680ء میں شیواجی مرگیا تو اس کا بیٹا سنبھا جی جانشین ہوا اس نے بھی قتل و غارت جاری رکھی۔ عالمگیر خود دکن پہنچا اس لڑائی میں سنبھا جی گرفتار ہو کر مارا گیا۔

اورنگزیب عالمگیر کی زندگی کا دوسرا پہلو بالکل مختلف ہے، وہ سلطنت مغلیہ کا سب سے متنازعہ بادشاہ ہے، اسکی سخت گیری مذہبی اور مسلکی تعصب اور جلد بازی یقیناً بہت سی غلطیوں کا باعث ہو گی لیکن یہی وہ دور تھا جب فرنگی لٹیرے سمندروں میں سرگرم تھے ،اور وہ ہندوستان میں بھی لڑاؤ اور کام نکالو جو بعد میں لڑاؤ اور راج کرو ،کی پالیسی لے کر گھسنے کی کوششوں میں تھے، ان انگریز تاریخ دانوں نے بھی تاریخ لکھنے میں تعصب برتا۔ اس دور کی تاریخ دو انتہاؤں پر نظر آتی ہے۔ یقیناً  حقیقت ان کے درمیان میں ہوگی۔ لیکن اس سے کوئی انکار ممکن نہیں کہ اوررنگزیب عالمگیر نے اپنے تین بھائیوں داراشکوہ، شجاع اور مراد کو قتل کیا اپنے باپ شہنشاہ شاہجہاں کو معزول کر کے قید کیا، وہ مذہبی اور مسلکی تعصب کی انتہا پر تھا، دکن میں بیجاپور اور گولکنڈہ کی شعیہ حکومتوں کو مٹانے کیلئے سخت اقدامات کیے، یہ لڑائی پچیس سال تک چلتی رہی۔

پنجاب میں ظہیر الدین بابر کے عہد میں بابا گرونانک کی ایک جماعت ہندوؤں میں توحید کی تعلیم کرتی تھی یہ سکھ جماعت ہندوؤں میں کافی مقبول ہوئی، لاہور کے حاکم اور دیگر کئی امراء نے اورنگزیب کو ان کے خلاف اُکسایا تو اس نے سکھوں کے گُرو تیغ بہادر صاحب کو دہلی بلوا کر قتل کروا دیا، سکھوں میں غم و غصہ پھیل گیا انہوں نے تیغ بہادر کے بیٹے گرو گوبند کو اپنا گرو بنایا۔ اس سے پہلے شہنشاہ جہانگیر نے بھی انکے گرو ارجن دیو کو قتل کروایا تھا۔

اب گرو گوبند نے اپنے والد اور دیگر سکھوں کے خون کا بدلہ لینے کا ارادہ کر لیا اور جو جماعت فقیری لباس پہن کر امن اور بھلائی و توحید کی تعلیم دیتی تھی انہوں نے اپنی جماعت کا نام خالصہ (شیر) رکھا، کڑا ، کچھ(نکر)، کیش(بال)، کنگھا اور کرپان(چھوٹی تلوار) لے کر مزاحمتی رخ اختیار کر لیا۔ دکن کی ناکام مہم کو چھوڑ کر غصہ اور چڑچڑاپن کا شکار اورنگزیب پنجاب آیا اور دیہات میں سکھوں کا قتل عام شروع کر دیا وہ آبادی چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے گئے اور مجبور ہو کر لوٹ مار کو پیشہ بنا لیا۔ لیکن پھر بھی وہ سلطنت میں امن و سکون کیلئے ہر طرح کے اقدامات کرتے رہے، گروگوبند جی نے اورنگزیب کی بہادری پر اسکی مدحت بھی لکھی اور کہا کہ اگر شہنشاہ ہمیں بلائے تو ہم جائیں گے۔

سکھ تحریک کو ہمیشہ مسلمانوں کا بہت زیادہ تعاون حاصل رہا ہے۔ بابا فرید کی بانی کا گرو گرنتھ صاحب میں درج کیا جانا حضرت میاں میر صاحب کا گرو ارجن جی کا ساتھ دینا اور گرو گوبند سنگھ جی کے لئے مسلمانوں کا قربانیاں کرنا اسی بات کا ثبوت ہے۔

اس کے بعد اورنگزیب کو خیال آیا کہ اگر وہ شری کشن کے پیدائشی مقام “متھرا” شری رام چندر کے جائے پیدائش “اجودھیا” اور ہندوؤں کی مشہور زیارت گاہ “بنارس” میں مندروں کو توڑ کر مسجدیں بنوائے تو اسے بڑا ثواب ہو گا، اس نے ان تینوں مقامات پر مندر توڑ کر مساجد بنوائیں، ہندوؤں کی دل شکنی ہوئی اور ہندو راجپوت سلطنت مغلیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ متھرا سے جاٹ اور دکن میں مرہٹہ جاگ اُٹھے۔ حکومت نے مختلف علاقوں میں راجپوتوں پر جزیہ بھی عائد کر دیا راجپوت جو شہنشاہ اکبر کے دور سے مغل حکومت کے ساتھ تھے بدظن ہو گئے۔

اورنگزیب کی متشدد پالیسیوں سے مسلمان بھی خوش نہ تھے، خاندانی مسائل بھی بڑھنے لگے اسے اپنے بیٹوں سے بھی خوف آتا تھا اور شہزادے اس سے ڈرتے تھے۔ کبھی وہ معمولی بات پر سخت سزائیں دیتا کبھی کسی علاقہ میں جبرا مذہب تبدیلی کا حکم جاری کر دیتا۔ اس نے لاکھوں سپاہیوں پر مشتمل لشکر کیساتھ مارواڑ پر حملہ کیا تمام شہر مسمار کر دئیے راجپوتوں کا قتل عام کیا تمام مندر گرا دئیے مذہب کی تبدیلی لازم قرار دی اور ہندوؤں کو گرفتار کر کے انکے منہ میں گائے کا کچا گوشت زبردستی ٹھونسا گیا یہ گائے کے گوشت کی لڑائی آج تک چل رہی ہے۔

جودھ پور کا حاکم راجہ جسونت سنگھ ہمیشہ سے شاہجہاں کا وفادار تھا اسکی جگہ راجہ جے سنگھ کو مامور کیا، اورنگزیب نے جسونت سنگھ کو شاہجہان کی مدد سے روکنے کی غرض سے اسے افغانوں سے لڑائی کیلئے کابل بھیج دیا، اسکے بیٹے پرتھی سنگھ کو دربار بلایا اور اور اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر غصہ سے پوچھا اب بتاؤ تم کیا کر سکتے ہو؟ وہ عقلمند باپ کا بیٹا تھا جواب دیا “میرے دونوں ہاتھ بادشاہ کے ہاتھ میں ہیں ایسا جی چاہتا ہے کہ ساری دنیا فتح کروں” اورنگزیب نے بظاہر اسے انعام دیا اور خلعت پہنائی یہ زہر آلود تھی اس سے وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔

راجہ جسونت سنگھ کو بیٹے کے قتل کی خبر ملی تو اس نے بیوی بچوں کو کابل بلوا لیا جہاں ناموافق موسم سے دو بیٹے بیمار ہو کر مر گئے اسی غم سے وہ چل بسا۔ اسکی رانی لڑکیوں اور بچ جانے والے کمسن بیٹے اجیت کیساتھ واپس آ گئی، اورنگزیب نے اسے حوالے نہ کرنے کے جرم میں پورے علاقے پر دھاوا بول دیا، اجیت کو وہ ایک مسلمان کے ذریعے بچانے میں کامیاب ہو گئے اور راجپوت سردار درگاداس کے ساتھ نکل گیا، بعد میں اورنگزیب کا بیٹا بھی بغاوت کر کے بھاگا تو اس نے اپنی بیوی بچوں سمیت اسی کے ہاس پناہ لی انہیں درگاداس کے پاس چھوڑ کر ایران فرار ہو گیا وہیں فوت ہوا۔

اس کی بیٹی اورنگزیب کی پوتی راجہ  درگاداس کے محل میں ہی جوان ہوئی، اس کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ اجیت سنگھ نے اس سے شادی کر لی ہے، شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے خوشامدانہ خط لکھا کہ میری پوتی واپس کر دو ،اسکے بدلے صلح اور بہت بڑے منصب کی پیشکش کی، راجہ اجیت نے بغیر کسی شرط کے تحائف کیساتھ شہزادی کو دہلی بھیج دیا اور جواب بھیجا کہ لڑائی کا فیصلہ صرف تلواریں ہی کریں گی، چنانچہ منڈل کے شاہی دستے کو شکست دے کر اس علاقہ پر قبضہ کیا۔

1687ء میں راجہ اجیت نے اجمیر تک کا علاقہ فتح کر لیا اور 1693ء تک مارواڑ کا علاقہ بھی شاہی فوج سے چھین لیا۔
ایسے ہی حالات میں 3مارچ 1707ء کو شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کا انتقال گلبرگ  میں ہوا اور انہیں دولت آباد کے قریب خلدآباد میں دفن کیا گیا اور وصیت کے مطابق قبر سادہ رکھی گئی۔ اورنگ زیب عالمگیر نے ہندوستان پر سب سے زیادہ عرصے تک اڑتالیس سال حکومت کی، سلطنت مغلیہ کا زوال اس دور سے شروع ہو گیا ،مذہبی تعصب نے سلطنت کا نظام درہم برہم کر دیا، ملک کے ہر علاقہ میں بغاوت تھی ،یہاں تک کہ شاہی خاندان بھی باغی ہو گیا، صرف دہلی پر قبضہ کی کسر باقی تھی، وگرنہ اورنگزیب عالمگیر کی بادشاہت صرف فوج تک تھی سلطنت اسکے اختیار سے نکل چکی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *