ہم پھلدار درخت کیوں نہیں لگاتے؟۔۔آصف محمود

مرغزار کے پہلو میں پھیلے مارگلہ کے جنگل میں ان دنوں کافی سختی ہے۔ ٹریل ویران پڑے ہیں اور راستے سنسان۔ مرغزار سے دامن کوہ اور وادی تلہاڑ جانے والی سڑک تو کھلی ہے لیکن راستے میں کسی کو رکنے کی اجازت نہیں۔مشرقی معاشرے کا ایک حسن اس کی مروت ہے ۔چنانچہ ان راستوں کے عادی آوارگان وبا کے دنوں میں بھی ان پابندیوں سے آزاد ہیںاور انتظامیہ از رہ مروت ان سے صرف نظر کر لیتی ہے۔چنانچہ میرے جیسے آوارگان کا جنگل سے رشتہ ، دھاگے کی صورت ہی سہی ، موجود رہا ہے۔ ٹریل فائیو کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ یہاں رینجرز اور وائلڈ لائف کی پکٹ سے آگے جانا ان دنوں ویسے ہی موزوں نہیں کیونکہ وائلڈ لائف کے لگائے گئے کیمروں میں ان راستوں پر تیندووں کو آتے جاتے دیکھا گیا ہے اور تیندووں میں سنا ہے کوئی مروت نہیں ہوتی کہ وہ عادی قسم کے آوارگان کا خیال رکھتے ہوئے ان سے صرف نظر کر لیں۔جی اداس ہوتو ٹریل کی بوہڑ تلے البتہ کچھ وقت گزارا جا سکتا ہے۔وائلڈلائف کیمپ سائٹ کے لان میں کرسیاں رکھی ہیں ، یہاں بھی من کی برہما شانت کیا جا سکتا ہے۔ وادی تلہاڑ کو جانے والے راستے پر توت کے تین درخت ہیں۔جب بھی جانا ہوا ان درختوں پر بندروں کا قبضہ پایا۔ سیاح آ نہیں رہے جو بندروں کو کھلاتے تھے، کویت ہاسٹل بند ہے ، دامن کوہ اور منال کے ہوٹل بھی بند ہیں، ان کا ویسٹ بھی بندروں کی خوراک کا بڑا ذریعہ تھا۔ چنانچہ بندر ان دنوں خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔توت کے یہ چند درخت ان کا بڑا’’ ذریعہ خوراک ‘‘ہیں اور ان کے معاشی مفادات انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی کو ان درختوں کے نزدیک آنے دیں۔دامن کوہ سے ذرا اوپر سڑک کنارے ایک گھنے درخت تلے بیٹھا سوچ رہا ہوں اتنا بڑا اور گھنا جنگل ہے لیکن درجن بھر پھلدار درخت نہیں کہ بندروں کا پیٹ بھرنے کے کام آ سکیں۔سوال یہ ہے ہم پھلدار درخت کیوں نہیں لگاتے؟ اسلام آباد جب آباد ہو رہا تھا یہاں جنگل اگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلہ ساز بابوئوں کی جانے بلا کہ مقامی درخت کیا ہوتے ہیں اور ان کا ماحول پر کیا اثر ہوتا ہے۔ فیصلہ سازوںنے مشرق بعید سے کاغذی توت کا بیج منگوایا اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسے اسلام آباد پر پھینکا گیا۔ چند ہی سال میں اسلام آباد سر سبز تو ہو گیا لیکن اس جنگلی توت نے آدھے سے زیادہ شہر کو الرجی اور دمے کا مریض بنا دیا ہے۔کوئی تحقیق کرے تو معلوم ہو اس غیر ملکی درخت کی وجہ سے اسلام آباد کے پرند وں اور نباتات کی بربادی کا عالم کیا ہے۔ یہ ایسا بے فیض درخت ہے اس پر پرندے گھونسلے نہیں بناتے۔ خدا جانے کیا وجہ ہے ، یہ غیر مقامی درخت ہے یا اس کا زہر پرندوں کو اس سے دور رکھتا ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے یہاں پرندے کم ہو گئے ہیں۔ مارچ اپریل میں آپ اس درخت کے نیچے کھڑے ہو کر دیکھیں اس کی شاخوں سے دھواں ( یا گیس) نکلتی ہے۔سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ پمز اور پولی کلینک مریضوں سے بھر جاتے ہیں تو آبپارہ اور میلوڈی میں طبی کیمپ لگانا پڑتے ہیں تا کہ لوگوں کا سانس بحال رہے۔کیا کسی کے پاس وقت ہے اس عذاب سے گزرتے ہوئے سوچے کہ غیر ملکی ، بے پھل اور بے فیض اس قاتل درخت نے اسلام آباد کو کیا دیا؟ کیا یہ بہتر نہ تھا جب اسلام آباد کا منصوبہ بنا ، یہاں مقامی درخت لگائے جاتے ۔ پھلدار بھی اور چھائوں والے بھی۔ نیم ، جامن ، آم ، لوکاٹ ، دھریک ، برگد یہ درخت لگے ہوتے آج اسلام آباد کا ’’ فلورا اینڈ فانا‘‘ ہی اور ہوتا۔ایف سکس میں لوکاٹ کا ایک درخت تھا ، اتنے میٹھے لوکاٹ ہوتے تھے کہ لطف آ جاتا تھا۔ پہاڑ کے بالکل ساتھ شالیمار کرکٹ گرائونڈ میں آم کے چند درخت ہیں ۔انہیں دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ گرمیوں کی دو پہر میں کچی امبیاں اتار کر کھانے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔باوجود اس کے کہ بعد میں گلا خراب ہو جاتا ہے ، یہ عادت نہیں چھوٹ سکی۔کورونا کی وجہ سے یہ پہلا موسم گرما ہو گا ،میں ان کے ذائقے سے محروم رہوں گا۔ بے ہودہ درخت کا جنگل تو اگ آیا، اس شہر میں اب ’’ مصنوعی گھاس‘‘ فروخت ہو رہی ہے۔ احساس کمتری کے مارے لوگوں میں غیر ملکی پودے خریدنے کا رجحان تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس شہر کے باسیوں کو کون سمجھائے جامن اور دھریک کی چھائوں کیسی ہوتی ہے۔ جہالت دیکھیے اسلام آباد میں سڑکوں کے کنارے باہر سے منگوا کر کھجور کے پودے لگائے گئے ، شاید ہی کوئی بچ پایا ہو۔ نئے سیکٹر بن رہے ہیں کوئی پھلدار درخت نہیں۔ جھیل کنارا ہو یا ٹریل فائیو پر بوہڑی کا چشمہ ، میں جہاں جاتا ہوں یہ سوال میرے ساتھ ہوتا ہے کہ یہاں چند پھلدار درخت ہوں تو کیا عالم ہو۔بیوروکریسی کا آرائشی درخت چاہییں اور سماج کے احساس کمتری کو ’’ امپورٹڈ پلانٹ‘‘ درکار ہیں۔ دھرتی کے چھائوں اور پھل والے درخت اب کون لگائے؟شہر سے نکل کر موٹر وے پر چڑھیں تو دکھ اور شدید ہو جاتا ہے۔گھنٹوں ڈرائیو کرتے رہیں سفیدے کا یہ منحوس درخت آپ کے ساتھ چلے گا۔ زیر زمین پانی اور ماحول دونوں کا یہ دشمن ہے۔جس درخت پر کوئی پرندہ گھونسلہ نہ بنا پائے اس بے فیض درخت سے ہم نے موٹرو ے کے اطراف بھر رکھے ہیں۔ ذرا سوچیے موٹر وے کے دونوں طرف سڑک کنارے علاقے اور ماحول کی مناسبت سے اگر دھریک ، ٹاہلی ، جامن ، شریں ، آم ، توت ، کینو ، بیری ، لوکاٹ ، برگد، امرود ، املتاس ، نیم اورسہانجنا جیسے درخت ہوں تو یہ کتنا سحر انگیز منظر ہو ۔پوٹھوہار کی کسی وادی میں آپ ڈرائیو کر رہے ہوں ، دن ڈھل رہا ہو، شام اتر رہی ہو اور آپ کے اطراف دھریک ، ٹاہلی ، جامن ، شریں ، آم ، توت ، کینو ، بیری ، لوکاٹ ، برگد، امرود ، املتاس ، نیم اورسہانجنا کے درختوں پر ، پرندے چہچہا رہے ہوں۔ کیا اس سے حسین اور رومانوی منظر بھی کوئی ہو سکتا ہے؟

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *